چنبیلی ایک شور شرابہ والا پھول ہے۔ اس کی موتیوں جیسی کلیوں سے بھری بوریاں ہر روز صبح سویرے مدورئی کے مٹو توانی بازار پہنچ جاتی ہیں، جہاں پلاسٹک کی چادروں پر انہیں انڈیلتے وقت ’’واڑی، واڑی [ہٹو، ہٹو]،‘‘ کی آواز لگا رہے مزدوروں کی آواز چاروں طرف گونج رہی ہوتی ہے۔ بیچنے والے ان نازک پھولوں کو ہلکے ہاتھوں سے لوہے کے ترازو پر تولتے ہیں اور ایک ایک کلو کی مقدار میں گاہکوں کو بیچنے کے لیے پلاسٹک کی تھیلی میں رکھتے جاتے ہیں۔ اِدھر کوئی قیمت پوچھتا ہے، تو اُدھر کوئی چیخ کر ریٹ بتا رہا ہوتا ہے۔ ترپال کی چادر پر گندے گیلے پیروں کے داغ، پرانے باسی پھولوں کے انبار، خرید و فروخت کا حساب کتاب رکھنے والے ایجنٹ، تیز نگاہیں، ایک نوٹ بک پر جلد بازی میں درج کیا گیا حساب، اور اس درمیان پھر کسی کی اونچی آواز کانوں میں پڑتی ہے، ’’مجھے پانچ کلو چاہیے…‘‘
عورتیں سب سے اچھے پھولوں کی تلاش میں بازار میں گھوم رہی ہیں۔ وہ مٹھی میں پھولوں کو بھرتے ہوئے انہیں اپنی انگلیوں کے درمیان سے گراتی ہیں۔ پھولوں کے معیار کو پرکھنے کا یہ ان کا طریقہ ہے۔ چنبیلی کی کلیاں بارش کی بوندوں کی طرح واپس اپنے ڈھیر پر گر رہی ہیں۔ ایک پھول بیچنے والی بڑے احتیاط سے گلاب اور گیندے کے پھول کے جوڑے لگا رہی ہے۔ اس کے دانتوں میں ایک ہیئر پن پھنسا ہوا ہے، جس میں وہ دونوں پھولوں کو چھید کر اپنے جوڑوں میں ٹانک لیتی ہے۔ پھر وہ شفاف سفید چنبیلی، اور چٹخ رنگوں والے گیندے اور گلاب کے پھولوں سے بھری ٹوکری اپنے سر پر اٹھائے شور شرابہ سے بھرے اس بازار سے باہر نکل جاتی ہے۔
سڑک کے کنارے، ایک چھوٹے سے چھاتے کے سایہ میں وہ ان پھولوں کو دھاگوں میں پروتی ہے اور انہیں گنتی کے حساب سے بیچنے لگتی ہے – چنبیلی کی کلیاں سبز رنگ کے سوتی دھاگے کے دونوں طرف پروئی گئی ہیں، ان کا رخ باہر کی طرف ہے، جب کہ ان کی خوشبو پنکھڑیوں کے اندر جمع ہیں۔ اور جب یہ کلیاں کسی (بال کی) چوٹی میں، کار کے اندر، بھگوان کی تصویر کے اوپر لگے لوہے کی کیل پر کھلیں گی، تو اپنی خوشبوں سے اس بات کا اعلان کریں گی کہ یہ مدورئی کی مَلّی ہیں۔
پاری نے تین سالوں کے دوران، مٹوتوانی بازار کا تین بار دورہ کیا۔ پہلا دورہ ستمبر ۲۰۲۱ میں بھگوان گنیش کے یوم پیدائش، ونائک چترتھی سے چار دن پہلے کیا گیا تھا۔ یہ دورہ پھولوں کی تجارت کے بارے میں ایک بنیادی جانکاری کی طرح تھا۔ یہ دورہ مٹوتوانی کے بس اسٹینڈ پر ختم ہوا تھا، کیوں کہ تب کووڈ سے متعلق پابندیوں کی وجہ سے پھولوں کا یہ بازار عارضی طور پر اسی بس اسٹینڈ کے پیچھے لگایا گیا تھا۔ یہ انتظام سماجی دوری کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا تھا۔ لیکن بھیڑ میں کوئی کمی نہیں تھی۔
مدورئی پھول بازار ایسوسی ایشن کے صدر نے میری کلاس شروع کرنے سے پہلے، اپنے نام کا اعلان کرتے ہوئے کہا، ’’میں پوکڈئی رام چندرن ہوں…اور یہ میری یونیورسٹی ہے،‘‘ انہوں نے پھولوں کے بازار کی طرف ہاتھ لہراتے ہوئے کہا۔






























