وی ترما بتاتی ہیں، ’’ہماری زندگی جوئے کے کھیل کی طرح ہے۔ بھگوان ہی جانتا ہے کہ گزشتہ دو برسوں میں ہمارے اوپر کیا گزری ہے۔ بطور فوک آرٹسٹ، پچھلے ۴۷ سالوں میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ جب ہم اپنا پیٹ بھرنے کے قابل بھی نہیں رہے۔‘‘
۶۰ سالہ ترما امّا ایک ٹرانس خاتون فوک آرٹسٹ ہیں، جو تمل ناڈو کے مدورئی شہر میں رہتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں، ’’ہمیں کوئی مقررہ تنخواہ نہیں ملتی ہے۔ اور اس کورونا [وبائی مرض] نے تو ہم سے معاش کے باقی ماندہ مواقع بھی چھین لیے۔‘‘
مدورئی ضلع کے ٹرانس مقامی فنکاروں کے لیے سال کے ابتدائی چھ مہینے کافی ہم ہوتے ہیں۔ اس مدت میں، گاؤوں میں مقامی سطح پر تہوار منائے جاتے ہیں اور مندر ثقافتی پروگرام منعقد کرتے ہیں۔ لیکن لاک ڈاؤن کے دوران، بڑی تعداد میں لوگوں کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی لگنے کی وجہ سے ٹرانس خواتین فنکاروں کے معاش پر گہرا اثر پڑا ہے۔ ترما امّا (جیسا کہ لوگ انہیں پکارتے ہیں) کے اندازہ کے مطابق، ان مقامی فنکاروں کی تعداد تقریباً ۵۰۰ ہے۔ ترما اما ٹرانس خواتین کے ڈراما اور فوک آرٹ کی ریاستی تنظیم کی سکریٹری ہیں۔
ترما اما مدورئی ریلوے اسٹیشن کے پاس ایک کرایے کے کمرے میں پھول بیچنے والے اپنے بھتیجے اور اس کے دو بچوں کے ساتھ رہتی ہیں۔ مدورئی شہر، جہاں ان کے ماں باپ یومیہ مزدوری کرتے تھے، میں بڑے ہوتے ہوئے وہ دوسرے ٹرانس جینڈر لوگوں کو مندروں اور ارد گرد کے گاؤوں کے تہواروں میں اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے دیکھتی تھیں۔












