گُڈلا منگمّا کہتی ہیں، ’’حیدر آباد منتقل ہونے کے بعد یہاں ہمیں جو بھی کام مل جاتا تھا ہم کر لیتے تھے۔ ہم چاہتے تھے کہ ہمارے پاس اتنے پیسے جمع ہو جائیں کہ ہم اپنی بیٹی کو اچھی تعلیم دلا سکیں۔‘‘ منگمّا اور ان کے شوہر، گُڈلا کوٹیّہ پہلے تلنگانہ کے محبوب نگر ضلع میں اپنے گاؤں میں رہتے تھے، جہاں سے وہ سال ۲۰۰۰ میں ریاست کی راجدھانی حیدر آباد چلے آئے تھے۔ یہاں آنے کے کچھ دنوں بعد ہی ان کی پہلی بچی، کلپنا، پیدا ہوئی تھی۔
لیکن اس شہر نے ان کے اوپر کوئی رحم دلی نہیں دکھائی۔ کوٹیّہ کو جب کوئی کام نہیں ملا، تو مجبوراً انہوں نے ہاتھ سے میلا اٹھانا شروع کر دیا تاکہ کچھ کمائی ہو سکے۔ انہوں نے سیویج کے نالوں کی صفائی کرنی شروع کر دی۔
کوٹیّہ کا تعلق چکلی برادری سے تھا (جو تلنگانہ میں دیگر پس ماندہ طبقہ میں شامل ہے) اور ان کا روایتی پیشہ کپڑے کی دھلائی کرنا تھا – لیکن حیدر آباد میں ان سے یہ کام لینے والا کوئی نہیں تھا۔ کام ملنے میں ہونے والی دشواریوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے منگمّا کہتی ہیں، ’’ہمارے آباء و اجداد کپڑے دھوتے اور آئرن کرتے تھے۔ لیکن اب یہ کام ہمیں بہت کم ملتا ہے؛ سب کے پاس اب واشنگ مشین آ گئی ہے اور آئرن باکس بھی ہیں۔‘‘
کوٹیّہ نے تعمیراتی مقامات پر دہاڑی مزدور کے طور پر بھی کام کرنے کی کوشش کی تھی۔ منگمّا بتاتی ہیں، ’’تعمیراتی مقامات ہمیشہ ہمارے گھر سے کافی دور ہوا کرتے تھے جہاں جانے کے لیے انہیں گاڑی کا کرایہ دینا پڑتا تھا، اس لیے انہوں نے سوچا کہ ہاتھ سے میلا اٹھانے کا کام ہی بہتر رہے گا کیوں کہ یہ کام گھر کے قریب ہی مل جاتا ہے۔‘‘ منگمّا کا اندازہ ہے کہ وہ یہ کام ہفتے میں کم از کم تین بار کرتے تھے۔ اس سے انہیں یومیہ ۲۵۰ روپے کی آمدنی ہو جاتی تھی۔
منگمّا کو یاد ہے کہ مئی ۲۰۱۶ میں جب کوٹیّہ کام کے لیے گھر سے روانہ ہوئے، تو اس وقت صبح کے ۱۱ بج رہے تھے۔ انہوں نے اپنی بیوی سے کہا تھا کہ وہ ایک سیور (نالے) کی صفائی کرنے جا رہے ہیں، اور ان سے ایک بالٹی پانی گھر کے باہر رکھ دینے کے لیے کہا تھا، تاکہ واپسی پر وہ اپنے ہاتھ دھو سکیں۔ منگمّا بتاتی ہیں، ’’میرے شوہر صفائی کرمی کُلو [میونسپل صفائی ملازم] نہیں تھے۔ وہ یہ کام اس لیے کرتے تھے کیوں کہ ہمیں پیسوں کی ضرورت تھی۔‘‘














