’’میں کوئی جرم کرنے کی وجہ سے جیل نہیں گئی تھی، بلکہ اپنی زمین کی لڑائی لڑنے کی وجہ سے گئی تھی۔ میں تب بھی جیل جانے سے نہیں ڈرتی تھی اور اب بھی نہیں ڈرتی،‘‘ راجکماری بھوئیا کہتی ہیں۔
اتر پردیش کے سون بھدر ضلع کے دھوما گاؤں کی رہنے والی، تقریباً ۵۵ سالہ راجکماری کا تعلق بھوئیا آدیواسی برادری سے ہے۔ کنہر آبپاشی منصوبہ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ میں شریک ہونے کے سبب، ۲۰۱۵ میں انھیں چار مہینے جیل میں گزارنے پڑے۔ کارکن اور مقامی سماج ڈوڈھی بلاک میں کنہر ندی پر باندھ بنانے کی مخالفت کر رہا ہے، کیوں کہ اس سے انھیں بے گھر ہونے اور اپنے پانی کے آلودہ ہونے کا خطرہ ستا رہا ہے۔
نیوز رپورٹوں کے مطابق، اس سال اپریل میں احتجاجی مظاہرہ کے دوران، پولس نے بھیڑ پر گولی چلائی اور لوگوں کو گرفتار کرنا شروع کر دیا۔ کچھ دنوں بعد، راجکماری (اوپر کے کور فوٹو میں بائیں سے دوسرے نمبر پر) کو اٹھا لیا گیا، اور دھوما سے تقریباً ۲۰۰ کلومیٹر دور، مرزاپور کی ضلع جیل میں ڈال دیا گیا۔
سُکالو گونڈ بھی، جو راجکماری کی طرح ہی آل انڈیا یونین آف فاریسٹ ورکنگ پیوپل (اے آئی یو ایف ڈبلیو یو پی) کی رکن ہیں، کنہر کے احتجاجی مظاہرہ میں شامل تھیں۔ ’’میں کنہر میں پیدا ہوئی تھی، اور برادری کی حمایت کرنا چاہتی تھی۔ جب پولس نے [۱۴ اپریل ۲۰۱۵ کو، صبح ۱۰ بجے کے آس پاس، تقریباً دو گھنٹے تک] گولیاں چلائیں، تو میں وہاں نہیں تھی۔ میں اس کے بعد وہاں گئی، لیکن تب تک تشدد بھڑک اٹھا تھا، اس لیے ہم سبھی لوگ الگ الگ سمتوں میں چلے گئے۔ راجکماری اپنے راستے پر چلی گئیں اور میں اپنے راستے پر،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔ (اس اسٹوری کے لیے انٹرویو ہو جانے کے بعد، سُکالو کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا اور وہ پھر سے جیل میں ہیں۔ یہ بھی دیکھیں: https://cjp.org.in/sonebhadras-daughter-sukalo/)
’’میں ہفتوں تک دور رہی،‘‘ سُکالو (اوپر کے کور فوٹو میں دائیں جانب سے دوسری) آگے کہتی ہیں۔ ’’میں ایک دور کے رشتہ دار، ایک آدیواسی فیملی جو ہمارے درد کو سمجھتے ہیں، کے گھر پانچ گھنٹے تک چلنے کے بعد پہنچی۔ میں وہاں دو رات رکی، اور پھر دوسرے گھر چلی گئی، جہاں میں اگلے ۱۰ دنوں تک رکی، اور پھر تیسرے گھر۔‘‘








