بھگبان پور کے مرد اتراکھنڈ اور ہماچل پردیش کے پاور پروجیکٹوں پر کام کرنے کے لیے سالوں سے ہجرت کر رہے ہیں۔ ۵۳ سالہ اخیم الدین تقریباً ۲۵ سال پہلے لائن مین کے طور پر کام کرنے گئے تھے۔ ’’میں ہماچل پردیش میں تھا۔ جب میں نے کام شروع کیا تھا تب مجھے ایک دن میں ۵۰۔۲ روپے ملتے تھے،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ ’’جتنا ہو سکتا ہے ہم اتنا کمانے کی کوشش کرتے ہیں، کچھ پیسے اپنے پاس رکھتے ہیں اور باقی گھر پر بھیج دیتے ہیں تاکہ فیملی زندہ رہ سکے۔‘‘ ان کی نسل کے کارکنوں کے ذریعہ تشکیل کردہ نیٹ ورک نے انس اور اکرم کے لیے اُن کے نقش قدم پر چلنا آسان بنایا۔
لیکن اُن کا کام خطروں سے کھیلنے جیسا ہے۔ اکرم نے اپنے کئی ساتھی کارکنوں کو بجلی کے جھٹکے سے مرتے یا زخمی ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔ ’’یہ خطرناک ہے۔ ہمیں معمولی تحفظ ملتا ہے۔ کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔‘‘ مثال کے طور پر، ویسی ایکولوجیکل تباہی جو اُن کے بھائی کو بہا لے گئی (انس اب بھی لاپتہ ہیں؛ ان کی لاش نہیں ملی ہے)۔ ’’لیکن ہمارے پاس کوئی متبادل نہیں ہے۔ زندہ رہنے کے لیے ہمیں کمانا ہی پڑتا ہے۔ مالدہ میں کوئی کام نہیں ہے۔ ہمیں یہاں سے ہجرت کرکے باہر جانا پڑتا ہے۔‘‘
مالدہ ملک کے سب سے غریب ضلعوں میں سے ایک ہے۔ یہاں کی دیہی آبادی کے ایک بڑے حصہ کے پاس زمین نہیں ہے اور وہ مزدوری پر منحصر ہیں۔ ’’ضلع میں زراعت روزگار کا بنیادی ذریعہ ہے،‘‘ مالدہ کے ایک سینئر صحافی، سُبھرو مائیترا کہتے ہیں۔ ’’لیکن لوگوں کے پاس زمین کے بہت چھوٹے چھوٹے اور معمولی ٹکڑے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر زمین اکثر آنے والے سیلاب میں ڈوب جاتی ہے۔ کاشتکاروں کے ساتھ ساتھ یہ زرعی مزدوروں کے لیے بھی ناقابل برداشت ہے۔‘‘ وہ مزید بتاتے ہیں کہ ضلع میں کوئی صنعت نہیں ہے، اسی لیے یہاں کے لوگ کام کرنے کے لیے ریاست سے باہر جاتے ہیں۔
مغربی بنگال کی حکومت کے ذریعہ ۲۰۰۷ میں شائع کردہ ’ڈسٹرکٹ ہیومن ڈیولپمنٹ رپورٹ: مالدہ‘ کارکنوں کی نقل مکانی کی وجوہات پر روشنی ڈالتی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آبی وسائل کی غیر مساوی تقسیم اور ناموافق زرعی- ماحولیاتی حالات ضلع کے زرعی مزدوروں کو بری طرح متاثر کرتے ہیں۔ اور دھیمی رفتار سے شہرکاری، صنعتی سرگرمی کی کمی، اور دیہی علاقوں میں کام کی موسمی کمی نے اجرت کی سطحوں کو کم کر دیا ہے، جس کی وجہ سے غریب کارکنوں کو کام کی تلاش میں دور جانا پڑتا ہے۔
اپریل کے پہلے ہفتہ میں، ملک میں کووڈ- ۱۹ کے معاملوں میں بے پناہ اضافہ کے باوجود، ۳۷ سالہ نیرج مونڈل دہلی میں بہتر کام کی تلاش میں مالدہ سے روانہ ہوئے۔ وہ مالدہ کے مانک چک بلاک کے بھوتنی دیارا (ندی کے کنارے واقع جزیرہ) میں واقع گھر پر اپنی بیوی اور دو نوعمر بچوں کو پیچھے چھوڑ آئے تھے۔ ’’آپ ماسک پہنتے ہیں اور زندگی کے ساتھ چل پڑتے ہیں،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ [۲۰۲۰ کے] لاک ڈاؤن کے بعد شاید ہی کوئی کام ملا ہو۔ سرکار نے جو کچھ دیا ہم نے اسی سے کام چلایا، لیکن ہاتھ میں نقد پیسے بالکل بھی نہیں تھے۔ ویسے بھی، مالدہ میں کام کم ہی ملتا ہے۔‘‘
نیرج کو مالدہ میں ۲۰۰ روپے یومیہ مزدوری ملتی تھی، لیکن دہلی میں وہ ۵۰۰-۵۵۰ روپے کما سکتے ہیں، وہ کہتے ہیں۔ ’’آپ زیادہ بچا سکتے ہیں اور اسے گھر بھیج سکتے ہیں،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’ظاہر ہے، مجھے اپنی فیملی کی یاد آئے گی۔ کوئی بھی خوشی سے پردیس نہیں جاتا۔‘‘