’’میں نے کچھ نہیں مانگا،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ’’میں نے اپنے ملک کے لیے لڑائی لڑی، انعام کے لیے نہیں۔ میں نے اپنی فیملی کے لیے بھی کچھ نہیں مانگا۔ لیکن اب، اس باب کے خاتمہ پر، مجھے امید ہے کہ کم از کم میری قربانی کو تسلیم کیا جائے گا۔‘‘
خراب صحت اور غریبی نے چند سال پہلے ان کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ لوگوں کو اس کے بارے میں تب پتہ چلا، جب جے پور کے ایک نوجوان صحافی، پریش رتھ نے پہلی بار یہ اسٹوری لکھی۔ رتھ انہیں ان کی جھونپڑی سے اٹھا کر اپنے ایک کمرے والے گھر لے آئے، اور وہ بھی اپنے پیسے سے؛ ساتھ ہی انہوں نے ان کا علاج بھی کرایا۔ مرض کے سبب حال ہی میں پانڈا کو اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ فی الحال وہ اپنے بیٹے کے گھر پر ہیں، حالانکہ اس کی شراب کی لت ابھی چھوٹی نہیں ہے۔ رتھ کے بعد کئی اور لوگوں نے اسٹوری لکھی۔ ایک بار تو ایک قومی میگزین نے لکشمی کو اپنے سرورق پر بھی چھاپا تھا۔
رتھ بتاتے ہیں، ’’ہم نے جب پہلی اسٹوری کی، تو ان کے لیے کچھ مدد آنے لگی۔ کوراپٹ کی اس وقت کی کلکٹر، اوشا پادھی نے ہمدردی دکھائی۔ ریڈ کراس فنڈ سے انہوں نے علاج کے لیے لکشمی کو ۱۰ ہزار روپے دلوائے۔ ساتھ ہی، انھوں نے لکشمی کو سرکاری زمین کا ایک ٹکڑا الاٹ کرانے کا وعدہ بھی کیا۔ لیکن، تبادلہ ہونے پر پادھی نے ضلع چھوڑ دیا۔ بنگال کے بھی کچھ لوگوں نے انہیں پیسے بھیجے۔‘‘ حالانکہ، کچھ دنوں بعد یہ سلسلہ ختم ہو گیا اور وہ پھر سے خستہ حالی کی زندگی جینے پر مجبور ہو گئیں۔ رتھ کہتے ہیں، ’’پھر بھی یہ صرف پیسے کا معاملہ نہیں ہے۔ اگر انھیں مرکزی پنشن بھی ملنے لگے، تو وہ کتنے سال تک اس سے مستفید ہو پائیں گی؟ یہ تو ان کے لیے فخر و اعزاز کی بات ہے۔ لیکن، مرکزی حکومت نے اب تک کوئی جواب نہیں دیا ہے۔‘‘
کافی جدوجہد کے بعد پچھلے سال کے آخر میں لکشمی کو پانجیاگڈا گاؤں میں سرکاری زمین کا ایک ٹکڑا الاٹ کیا گیا۔ لیکن، وہ ابھی بھی اس بات کا انتظار کر رہی ہیں کہ سرکاری اسکیم کے تحت اس زمین پر انہیں ایک گھر بناکر دیا جائے گا اور وہ امید لگائے بیٹھی ہیں۔ فی الحال کے لیے، رتھ نے ان کی پرانی جھونپڑی کے بغل میں ایک اچھا کمرہ بنانے میں مالی مدد کی ہے، جہاں انہیں جلد ہی منتقل ہونے کی امید ہے۔
مقامی سطح پر بھی اب بہت کم لوگ انہیں جانتے ہیں۔ کچھ تنظیمیں ان کے معاملے کو آگے بڑھانے کے لیے آگے آئی ہیں۔ انہوں نے مجھے ۱۴ اگست کو بتایا، ’’کل، میں یہاں دیپتی اسکول میں جھنڈا پھہراؤں گی۔ انہوں نے مجھ سے درخواست کی ہے۔‘‘ انہیں اس پر فخر ہے، لیکن وہ اس بات کو لیکر پریشان ہیں کہ ان کے پاس ’’تقریب میں پہن کر جانے کے لیے اچھی ساڑی نہیں ہے‘‘۔
دریں اثنا، آئی این اے کی بزرگ سپاہی اپنی اگلی لڑائی کی تیاری کر رہی ہیں۔ یہ بزرگ خاتون کہتی ہیں، ’’نیتا جی نے کہا تھا ’دلّی چلو‘۔۱۵ اگست کے بعد ایسا ہی کروں گی، اگر مرکزی حکومت نے تب بھی مجھے مجاہدِ آزادی کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔ پارلیمنٹ کے سامنے دھرنے پر بیٹھ جاؤں گی۔ ’دِلّی چلو‘، میں بھی اب یہی کروں گی۔‘‘
اور وہ ایسا کریں گی، شاید چھ دہائیوں کی تاخیر سے۔ لیکن، دل میں امید لیے۔ جیسا کہ وہ گاتی ہیں: ’’قدم، قدم بڑھائے جا...‘‘
تصاویر: پی سائی ناتھ