’’دوائیں بھی ختم ہو گئی ہیں، پیسہ بھی ختم ہو گیا ہے اور گیس بھی ختم ہو گئی ہے،‘‘ سریش بہادر نے مجھے اپریل کے وسط میں بتایا تھا۔
گزشتہ چار سال سے سریش، رات کو ایک سائیکل پر سیٹی اور ڈنڈا لیے گھروں اور دکانوں کی رکھوالی کے لیے گشت لگاتے تھے۔ وہ اور ان کے والد، رام بہادر، آندھرا پردیش کے مغربی گوداوری ضلع کے بھیماورم شہر میں سکیورٹی گارڈ کے طور پر کام کرتے تھے۔
۲۲ مارچ کے بعد، جب لاک ڈاؤن شروع ہوا، تو سریش نے سائیکل کو ایک طرف رکھ دیا، اور اپنا وقت فون پر کووڈ-۱۹ کی خبریں تلاش کرنے، اور کھانا، رسوئی گیس اور پانی کا انتظام کرنے میں گزارنے لگے۔
۲۳ سالہ سریش، تمّی راجو نگر علاقے میں اپنے دوست، تقریباً ۴۳ سال کے شبھم بہادر اور ۲۱ سال کے راجندر بہادر کے ساتھ کرایے کے ایک کمرے میں رہتے تھے – تینوں نیپال کے بجھانگ ضلع کے ڈِکلا گاؤں کے رہنے والے ہیں۔ رام بہادر، جو بھیماورم کے ایک دوسرے حصے میں کرایے کا ایک کمرہ لیکر رہتے تھے، لاک ڈاؤن شروع ہونے کے فوراً بعد وہ بھی ان کے پاس چلے آئے۔
تب تک، رام اور سریش ہر مہینے کے پہلے دو ہفتوں میں، گھر گھر جاکر اپنی مزدوری اکٹھا کرتے تھے – ہر گھر سے ۱۰-۲۰ روپے اور دکانوں سے ۳۰-۴۰ روپے۔ ان میں سے ہر ایک مہینہ میں ۷ سے ۹ ہزار روپے کماتا تھا۔ یہ ایک غیر رسمی انتظام تھا، اس لیے ان کی آمدنی گھٹتی بڑھتی رہتی تھی ’’کبھی کبھی گھٹ کر ۵۰۰۰ رروپے بھی ہو جاتی تھی،‘‘ رام بہادر نے بتایا تھا، جب ہم نے اپریل میں ان سے بات کی تھی۔ ’’اب یہ بند ہو گئی ہے۔‘‘






