اس سال ۴ مئی کو جب ہریندر سنگھ نے اپنے ساتھی کارکن پپو کو اُس دن کی آخری دو لاشوں کو آخری رسومات کے لیے تیار کرنے کو کہا، تو انہیں اس بات کی بالکل بھی امید نہیں تھی کہ ان کا یہ کہنا ان کے ساتھی کارکنوں کو حیرت زدہ کر دے گا۔ اپنی بات کہنے کے لیے انہوں نے جن الفاظ کا استعمال کیا تھا وہ کچھ غیر معمولی تھے۔
ہریندر نے کہا: ’’دو لونڈے لیٹے ہوئے ہیں‘‘۔ ہریندر کا لاش کو ’لونڈا‘ کہنا انہیں حیرت زدہ کر گیا۔ لیکن حیرانی میں مبتلا ان کے ساتھیوں کو جلد ہی احساس ہو گیا کہ ہریندر سنجیدہ ہیں۔ اور وہ معصومیت میں ایسا کہہ رہے ہیں۔ ان کی معصومیت پر وہ فوراً قہقہہ لگانے لگے۔ نئی دہلی کے مصروف ترین شمشان، نگم بودھ گھاٹ پر ان کی پُرخطر نوکری کے درمیان یہ راحت ایک نادر لمحہ تھا۔
مگر ہریندر کو لگا کہ انہیں وضاحت پیش کرنی چاہیے۔ انہوں نے گہری سانس لی – وہ خوش قسمت تھے کہ کووڈ وبائی مرض کے دوران جہنم نما ماحول میں سانس لے پا رہے تھے – اور کہا، ’’آپ انہیں باڈی کہتے ہیں۔ ہم انہیں لونڈے [لڑکے] کہتے ہیں۔‘‘ ایسا کہہ کر انہوں نے مرنے والوں کو پوری عزت بخش دی۔
یہ مزدور شمشان گھاٹ کی بھٹیوں کے بالکل قریب بنے ایک چھوٹے سے کمرے میں کھانا کھا رہے تھے۔ پپو نے مجھ سے کہا، ’’جس انسان کو بھی یہاں لایا جا رہا ہے، وہ یا تو کسی کا بیٹا ہے یا بیٹی ہے۔ بالکل میرے بچوں کی طرح۔ انہیں بھٹی میں ڈالنا افسوس ناک ہے۔ لیکن، ہمیں ان کی آتما کی شانتی کے لیے ایسا کرنا ہوتا ہے، ہے نا؟‘‘
یمنا کنارے، دہلی کے کشمیری گیٹ کے قریب اس شمشان میں داخل ہوتے ہی دیوار پر بنی ایک تصویر پر نظر رک جاتی ہے۔ اس تصویر پر لکھا ہے: ’مجھے یہاں تک پہنچانے والے، تمہارا شکریہ، آگے ہم اکیلے ہی چلے جائیں گے‘۔ لیکن، اس سال جب اپریل مئی میں کووڈ۔۱۹ نے ملک کی راجدھانی کو موت کے پنجوں میں جکڑ لیا، تب یہ مرنے والے اکیلے نہیں رہے ہوں گے – ان کو دوسری دنیا کے سفر پر کوئی نہ کوئی ساتھی ضرور مل گیا ہوگا۔ وہاں روزانہ ۲۰۰ سے زیادہ لاشوں کی آخری رسومات ادا کی جا رہی تھیں۔ یہ تعداد سی این جی بھٹیوں اور کھلی ’چِتا‘ کو ملاکر تھی۔
وبائی مرض سے قبل، شمشان کی یہ سی این جی بھٹیاں ایک مہینہ میں صرف ۱۰۰ لاشوں کی ہی آخری رسومات ادا کرتی تھیں۔ اُس دن، ۴ مئی کو نگم بودھ گھاٹ پر سی این جی بھٹیوں میں ۳۵ لاشوں کی آخری رسومات ادا کی گئی تھیں۔ اپریل کے پہلے ہفتہ کے بعد جب کووڈ کی دوسری لہر دہلی کو اپنے حصار میں لے رہی تھی، تب یہ تعداد روزانہ اوسطاً ۴۵-۵۰ سے تھوڑا کم تھی۔














