توتوکُڈی شہر کی سڑکوں پر جب لوگوں کی بھیڑ جمع ہونے لگی – جیسا کہ انہوں نے تمل ناڈو کے کئی حصوں میں بھی کیا – تو ایک چھوٹا سا لڑکا ان کے ساتھ شامل ہونے کے لیے دوڑا ہوا آیا۔ کچھ ہی لمحوں میں وہ بھی مظاہرہ کا حصہ بن گیا اور سخت گیر نعرے لگانے لگا۔ ’’آج آپ اسے نہ تو جان سکتے ہیں، نہ ہی محسوس کر سکتے ہیں،‘‘ وہ ہم سے کہتے ہیں۔ ’’لیکن بھگت سنگھ کی پھانسی تمل ناڈو میں جدوجہد آزادی کے لیے ایک جذباتی موڑ ثابت ہوئی۔ لوگوں کے حوصلے پست ہو گئے تھے اور وہ آنسو بہا رہے تھے۔
’’میں صرف ۹ سال کا تھا،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔
آج، وہ ۹۹ سال کے ہو چکے ہیں (۱۵ جولائی، ۲۰۲۰)، لیکن اس آگ اور جذبے کو برقرار رکھے ہوئے ہیں جس نے انہیں مجاہد آزادی، زیر زمین انقلابی، قلم کار، مقرر اور سخت گیر دانشور بنایا۔ وہ شخص، جو ۱۴ اگست ۱۹۴۷ کو انگریزوں کی جیل سے باہر نکلا۔ ’’اس دن، جج سنٹرل جیل میں آئے اور ہمیں رہا کر دیا۔ ہمیں مدورئی سازش کیس میں بری کر دیا گیا تھا۔ میں مدورئی سنٹرل جیل سے باہر آیا اور جشن آزادی کے جلوس میں شامل ہو گیا۔‘‘
اپنی عمر کے ۱۰۰ویں سال میں داخل ہو چکے، این شنکریہ دانشورانہ طور پر سرگرم رہتے ہیں، ابھی بھی تقریریں اور خطاب کرتے ہیں اور، ۲۰۱۸ کے آخر میں انہوں نے تمل ناڈو کے ترقی پسند مصنفین اور فنکاروں کی محفل کو مخاطب کرنے کے لیے چنئی کے کروم پیٹ واقع اپنے گھر سے – جہاں ہم ان کا انٹرویو کر رہے ہیں – مدورئی تک کا سفر کیا تھا۔ جو شخص ہندوستان کی جنگ آزادی میں شامل ہونے کے سبب کبھی گریجویٹ نہیں بن پایا، اس نے کئی سیاسی کتابیں، کتابچے، پرچے اور صحافتی مضامین لکھے ہیں۔
نرسمہالو شنکریہ حالانکہ امیریکن کالج، مدورئی سے تاریخ میں بی اے کی ڈگری حاصل کرنے کے قریب پہنچ چکے تھے، لیکن ۱۹۴۱ میں اپنے آخری امتحان سے صرف دو ہفتے پہلے غائب ہو گئے۔ ’’میں کالج کی اسٹوڈنٹ یونین کا جوائنٹ سکریٹری تھا۔‘‘ اور ایک تیز دماغ والے طالب علم جنہوں نے کیمپس میں شعری سوسائٹی قائم کی، اور فٹ بال میں کالج کی نمائندگی کی۔ وہ اس وقت کی برطانوی حکومت مخالف تحریکوں میں کافی سرگرم تھے۔ ’’اپنے کالج کے دنوں میں، میں نے بائیں محاذ کے نظریات والے کئی لوگوں کے ساتھ دوستی کی۔ میں سمجھ گیا تھا کہ ہندوستان کی آزادی کے بغیر سماجی اصلاح کا کام پورا نہیں ہوگا۔‘‘ ۱۷ سال کی عمر میں، وہ ہندوستانی کمیونسٹ پارٹی (جس پر اس وقت پابندی لگا دی گئی تھی اور جو زیر زمین تھی) کے رکن تھے۔
وہ امیریکن کالج کے مثبت ہونے کے نظریہ کو یاد کرتے ہیں۔ ’’ڈائرکٹر اور کچھ اساتذہ امریکی تھے، باقی تمل تھے۔ ان سے غیر جانبدار رہنے کی امید کی جاتی تھی، لیکن وہ انگریزوں کے حامی نہیں تھے۔ وہاں پر طالب علموں کی سرگرمی کی اجازت تھی...‘‘ ۱۹۴۱ میں، انگریز مخالف مظاہروں میں شریک ہونے کے لیے، انا ملائی یونیورسٹی کی ایک طالبہ میناکشی کی گرفتاری کی مذمت کرنے کے لیے مدورئی میں ایک میٹنگ بلائی گئی۔ ’’اور ہم نے ایک پرچہ جاری کیا۔ ہمارے ہاسٹل کے کمروں پر چھاپہ مارا گیا، اور نارائن سوامی (میرے دوست) کو ایک پرچہ رکھنے کے سبب گرفتار کر لیا گیا۔ بعد میں ہم نے ان کی گرفتاری کی مخالفت کرنے کے لیے ایک احتجاجی میٹنگ بلائی...








