بیلڈانگا شہر سے کولکاتا کو جانے والی ہزار دواری ایکسپریس ابھی ابھی پلاسی سے گزری ہے، تبھی ایکتارہ کی آواز ڈبہ میں گونجنے لگتی ہے۔ سنجے بشواس لکڑی سے بنے کھلونوں – چرخہ، ٹیبل لیمپ، کار، بس – سے بھری ایک بڑی ٹوکری اور ایکتارہ لیے ہوئے ہیں۔
باریکی سے تیار کی گئی اشیاء، فروخت کے چینی سامانوں – کھلونے، چابی کے چھلے، چھتریاں، ٹارچ، لائٹر – کے درمیان الگ دکھائی دے رہی ہیں اور دیگر سامان بیچنے والے رومال، پنچانگ، مہندی کا کتابچہ، جھال موڑھی، ابلے انڈے، چائے، مونگ پھلی، سموسے، منرل واٹر بیچ رہے ہیں۔ ان ٹرینوں میں ہر ایک فروش کنندہ کے لیے روٹ (راستہ) اور ڈبے پہلے سے متعین ہوتے ہیں۔
مسافر مول بھاؤ کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ پھیری والے، مرشد آباد ضلع کے بہرام پور ڈویژن کے بیلڈانگا اور رانا گھاٹ کے بیچ، ۱۰۰ کلومیٹر کی دوری ٹرین سے دو گھنٹے میں طے کرتے ہوئے اچھا سودا کر لیتے ہیں۔ زیادہ تر فروش کنندہ رانا گھاٹ پر اتر جاتے ہیں، کچھ کرشنا نگر اترتے ہیں، یہ دونوں اس لائن کے اہم ریلوے جنکشن ہیں۔ وہاں سے، کئی لوگ اپنے گاؤں اور قصبوں تک جانے والی لوکل ٹرین پکڑتے ہیں۔
کسی نے سنجے سے ایکتارہ کی قیمت پوچھی۔ ۳۰۰ روپے، وہ بتاتے ہیں۔ ممکنہ خریدار پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ ’’یہ سستا کھلونا نہیں ہے، میں انھیں بے حد احتیاط سے بناتا ہوں،‘‘ سنجے کہتے ہیں۔ ’’کچے مال ہائی کوالٹی کے ہیں۔ آپ ایکتارہ کے نچلے سطح پر جو دیکھ رہے ہیں، وہ اصلی چمڑا ہے۔‘‘ ایک دوسرا مسافر بحث کرتا ہے: ’’ہمیں یہ مقامی میلے میں بہت سستے داموں میں ملتے ہیں۔‘‘ سنجے جواب دیتے ہیں، ’’یہ سستا والا نہیں ہے جو آپ کو مقامی میلے میں ملتا ہے۔ اور میرا کام لوگوں کو دھوکہ دینا نہیں ہے۔‘‘
وہ گلیارہ کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں، اپنی بنائی ہوئی چیزوں کو دکھاتے ہیں، کچھ چھوٹے سامان بیچتے ہیں۔ ’’آپ اپنے ہاتھوں سے چھو کر انھیں دیکھ سکتے ہیں، اس کے لیے آپ کو پیسہ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ اسی درمیان، ایک پرجوش میاں بیوی مول بھاؤ کیے بغیر ایکتارہ خرید لیتے ہیں۔ سنجے کا چہرہ چمک اٹھتا ہے۔ ’’اس کے لیے بہت محنت کرنی پڑی ہے- آپ اس کی دھُن کو تو سنیں۔‘‘




