جے پور کے راجستھان پولو کلب میں شام کے چار بجے ہیں، فروری کی دھوپ کھلی ہوئی ہے۔
چار-چار کھلاڑیوں پر مشتمل دونوں ٹیمیں تیار ہیں۔
ہندوستانی خواتین کی پی ڈی کے ایف کی ٹیم اس نمائشی میچ کے لیے پولو فیکٹری انٹرنیشنل ٹیم کے مدمقابل ہے۔ ہندوستان میں کھیلا جانے والا خواتین کا یہ پہلا بین الاقوامی پولو میچ ہے۔
ہر کھلاڑی اپنے اپنے ہاتھوں میں لکڑی کے مالیٹ (چھڑی) لیے کھیل شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔ اشوک شرما کا یہ اس سیزن کا پہلا میچ ہے۔ لیکن وہ اس کھیل کے لیے کوئی اجنبی نہیں ہیں۔
مالیٹ بنانے کے ۵۵ سال کے تجربہ کے ساتھ اشوک تیسری نسل کے کاریگر ہیں۔ بید (کین) سے بننے والا پولو اسٹک کسی بھی کھلاڑی کی کِٹ کے لیے ضروری ہے۔ وہ اپنے خاندان کی ۱۰۰ سالہ میراث کے بارے میں بات کرتے ہوئے فخریہ لہجے میں کہتے ہیں، ’’میں مالیٹ بنانے کے ہنر کے درمیان پیدا ہوا تھا۔‘‘ گھوڑے والے پولو کا شمار دنیا میں گھڑ سواری کے قدیم ترین کھیلوں میں ہوتا ہے۔




















