سنتو تانی آدیواسی ہیں، لیکن آپ انہیں کسی ایک خاص قبیلہ سے جوڑ کر نہیں دیکھ سکتے۔ گزشتہ تقریباً ڈیڑھ سو سالوں میں اوڈیشہ، مغربی بنگال، بہار، جھارکھنڈ، تلنگانہ، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، اور آندھرا پردیش سے مہاجر مزدوروں کے طور پر بہت سے آدیواسی آسام آ کر بس گئے اور یہاں کے چائے کے باغات میں کام کرتے رہتے ہیں۔ ان آدیواسی برادریوں کے آپس میں اور دیگر برادریوں کے ساتھ گھلنے ملنے سے ان کی اگلی کئی نسلیں وجود میں آئیں۔ ان برادریوں کو مشترکہ طور پر اکثر ’ٹی ٹرائبس (چائے کے باغات کے آدیواسی)‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔
ان کی ۶۰ لاکھ سے زیادہ آبادی آسام میں رہتی ہے، اور بھلے ہی انہیں اپنی آبائی ریاستوں میں درج فہرست قبیلہ کی شکل میں نشان زد کیا گیا ہے، لیکن یہاں انہیں یہ درجہ نہیں ملا ہے۔ ان میں سے ۱۲ لاکھ سے زیادہ لوگ ریاست کے تقریباً ۱۰۰۰ چائے کے باغات میں کام کرتے ہیں۔
روزمرہ کی مشکلیں اور کڑی محنت، ان میں سے اکثر لوگوں کے خوابوں پر پانی پھیر دیتی ہے۔ لیکن سنتو کے ساتھ ایسا نہیں ہے۔ وہ جھومور گاتے ہیں، جن میں ان کے آس پاس کی تکلیفوں کو آواز ملتی ہے۔ دھوپ اور بارش میں چائے کے باغات میں کام کرنے والے محنت کش لوگ اور ہر ایک کپ چائے کے پیچھے چھپی ان کی کڑی محنت، سنتو کے گیتوں کے بول بن کر پھوٹتے ہیں۔