دو بُلڈوزر دوپہر کے وقت آئے۔ ’’بُلڈوزر، بُلڈوزر... سر... سر...‘‘ اسکول کے میدان میں کھڑے بچے چلّائے۔ ان کی چیخ سن کر اسکول کے دفتر سے پرنسپل پرکاش پوار اور بانی متین بھونسلے بھاگتے ہوئے آئے۔
’’آپ یہاں کیوں آئے ہیں؟‘‘ پوار نے پوچھا۔ ’’ہم شاہراہ بنانے کے لیے [کمروں کو] گرانا چاہتے ہیں۔ براہِ کرم کنارے ہٹئے،‘‘ بلڈوزر کے ایک ڈرائیور نے کہا۔ ’’لیکن کوئی نوٹس نہیں دیا گیا،‘‘ بھونسلے نے اس کی مخالفت کی۔ ’’حکم اوپر [امراوتی کے کلکٹر کے دفتر] سے آیا ہے،‘‘ ڈرائیور نے کہا۔
اسکول کے ملازمین نے جلدی سے بنچ اور (ہرے) بورڈ نکالے۔ انھوں نے مراٹھی میں امبیڈکر، پھُلے، گاندھی، عالمی تاریخ وغیرہ پر تقریباً ۲ ہزار کتابوں کی لائبریری کو خالی کیا۔ ان سب چیزوں کو پاس کے ہاسٹل میں لے جایا گیا۔ جلد ہی بلڈوزروں نے دھکہ دیا۔ ایک دیوار گر گئی۔
یہ سب ۶ جون کو ’پرشن چنہہ آدیواسی آشرم شالہ‘ (سوالیہ نشان آدیواسی اسکول) میں ۲ گھنٹے تک چلا۔ اپریل کے بعد گرمیوں کی چھٹیوں میں ہاسٹل میں رہنے والے بچوں نے اپنی کلاسوں کو گرتے ہوئے دیکھا۔ ’’تو ہمارا اسکول ۲۶ جون سے شروع نہیں ہوگا؟ وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟‘‘ ان میں سے کچھ نے پوچھا۔












