دیپا جب اسپتال سے لوٹیں، تو انہیں معلوم نہیں تھا کہ انہیں کاپر ٹی لگایا جا چکا ہے۔
انہوں نے ابھی دوسرے بچے (ایک اور بیٹا) کو جنم دیا تھا اور وہ نس بندی کروانا چاہتی تھیں۔ لیکن، بچے کی پیدائش سیزیرئن آپریشن کے ذریعے ہوئی تھی اور دیپا بتاتی ہیں، ’’ڈاکٹر نے مجھ سے کہا کہ ایک ساتھ دونوں آپریشن نہیں کیا جا سکتا۔‘‘
ڈاکٹر نے اس کی جگہ انہیں کاپر ٹی لگوانے کا مشورہ دیا۔ دیپا اور ان کے شوہر نوین (بدلے ہوئے نام) کو لگا کہ یہ صرف ایک مشورہ ہے۔
ڈیلیوری کے تقریباً چار دن بعد، مئی ۲۰۱۸ میں ۲۱ سالہ دیپا کو دہلی کے سرکاری دین دیال اپادھیائے اسپتال نے چھٹی دے دی۔ نوین کہتے ہیں، ’’ہم نہیں جانتے تھے کہ ڈاکٹر نے کاپر ٹی لگا دیا ہے۔‘‘
یہ تو انہیں ایک ہفتہ بعد پتہ چل پایا، جب اس علاقے کی آشا کارکن نے دیپا کے اسپتال کی رپورٹ دیکھی، جسے نوین اور دیپا نے نہیں پڑھا تھا۔
کاپر ٹی بچہ دانی میں لگایا جانے والا ایک مانع حمل آلہ (آئی یو ڈی) ہے، جسے حمل سے بچنے کے لیے بچہ دانی میں ڈالا جاتا ہے۔ ۳۶ سالہ آشا کارکن (منظور شدہ سماجی صحت کارکن) سشیلا دیوی ۲۰۱۳ سے ہی اس علاقے میں کام کر رہی ہیں، جہاں دیپا رہتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں، ’’اسے ایڈجسٹ ہونے میں تین مہینے لگ سکتے ہیں، اور اس کے سبب کچھ عورتوں کو بے چینی ہو سکتی ہے۔ اسی لیے، ہم مریضوں کو [چھ مہینے تک] باقاعدہ جانچ کے لیے ڈسپینسری آنے کے لیے کہتے ہیں۔‘‘
حالانکہ، دیپا کو شروع کے تین مہینے کوئی پریشانی نہیں ہوئی اور وہ اپنے بڑے بیٹے کی بیماری میں الجھی ہوئی تھیں؛ اور باقاعدہ جانچ کے لیے نہیں جا پائیں۔ انہوں نے کاپر ٹی کا استعمال جاری رکھنے کا فیصلہ کر لیا۔










