کتابوں کی اپنی چلتی پھرتی دکان میں، کتابیں دیکھ رہے ایک گاہک کو آئین کی کاپی دکھاتے ہوئے رام پیاری کواچی نے کہا، ’’کون سی چیز اس بات کو ممکن بناتی ہے کہ ہم اپنے حقوق اور آزادی کو جی سکیں؟ ہندوستان کا آئین۔‘‘ چھتیس گڑھ کے دھمتری ضلع میں واقع گاؤں ’گھوٹ گاؤں‘ کے ہاٹ میں، ان کے اسٹال میں رکھی کتابوں میں سب سے موٹی کتاب آئین ہند کی ہی تھی۔ یہ ہفتہ واری بازار، دھمتری ضلع کے نگری بلاک میں واقع رام پیاری کے گاؤں جورا ڈبری ریئت سے تقریباً ۱۳ کلومیٹر دور لگتا ہے۔
رام پیاری پڑھ یا لکھ نہیں سکتے، لیکن اُس دن اپنے اسٹال پر کتابیں دیکھنے آنے والے ہر گاہک کو آئین کی اہمیت سمجھا رہے تھے۔ ان کی ہی طرح ان کے متوقع گاہک اُس علاقے کی آدیواسی برادریوں سے تعلق رکھتے تھے؛ اور رام پیاری کی دلچسپی انہیں صرف آئین سے متعارف کروانے میں تھی۔
رام پیاری نے کہا، یہ ’’ایک ایسی مقدس کتاب‘‘ ہے جسے ہر کسی کو اپنے گھر میں رکھنا چاہیے، اور اس سے اپنے حقوق اور فرائض کے بارے میں سیکھنا چاہیے۔ ’’کیا آپ جانتے ہیں کہ ہم آدیواسیوں اور دلتوں کو ریزرویشن (اعلیٰ تعلیم اور سرکاری نوکریوں میں)، ہندوستان کے آئین اور اس کے التزامات اور پانچویں اور چھٹے شیڈول (آدیواسی برادریوں کو تحفظ فراہم کرنے والے) کے ذریعے ہی حاصل ہوا ہے؟‘‘ یہ باتیں رام پیاری گھوٹ گاؤں کے ان لوگوں سے کہہ رہے ہیں جو ہاٹ میں عام طور پر کیرانے کا سامان، سبزیاں، اور گھر کے دیگر ضروری سامان خریدنے آئے ہیں۔
رام پیاری کواچی کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ان کی عمر ۵۰ سال کے آس پاس ہوگی۔ وہ چھتیس گڑھ کے سب سے بڑے آدیواسی گروپ ’گونڈ‘ سے تعلق رکھتے ہیں – چھتیس گڑھ کی آبادی میں ایک تہائی حصہ داری درج فہرست قبائل کی ہے۔ وہ جو کتابیں فروخت کر رہے ہیں ان میں سے زیادہ تر ہندی میں ہیں۔ ان میں سے کچھ کتابوں کے نام ہیں – تیسری آزادی کی سنگھ گرجنا؛ برسا مُنڈا: سچتر جیونی؛ بھرشٹاچار؛ ہندو، آدیواسی نہیں ہیں۔ حالانکہ، وہ گونڈی اور انگریزی زبان میں بھی کچھ کتابیں رکھتے ہیں۔ جب کوئی گاہک کسی کتاب کو اٹھاتا ہے، تو رام پیاری اس کتاب کے بارے میں بتانے لگتے ہیں، جو اکثر سننے میں کتاب کے مختصر جائزہ کی طرح محسوس ہوتا ہے۔







