نوجوان طلب حسین، گرم جھاگ والے پانی میں بھیگے کمبل کو تسلسل کے ساتھ اپنے پیروں کے پنجوں سے کوٹ رہے ہیں۔ ایسا لگ رہا ہے، گویا وہ کمبل پر رقص کر رہے ہوں۔ ان کے چہرے پر مسکراہٹ پھیلی ہوئی ہے۔ سہارا کے لیے سامنے لگے درخت کی شاخ کو پکڑ کر وہ کہتے ہیں، ’’آپ کو کمبل پر کھڑا ہونے کے لیے توازن بنانا پڑتا ہے۔‘‘ ان کے پاس کھڑا ایک دوسرا آدمی اس گھمیلا (گھڑے) میں صابن والا مزید گرم پانی بھر رہا ہے، جس میں کمبل کو بھگو کر رکھا گیا ہے۔
جموں کے سانبہ ضلع کی ایک چھوٹی سی بکروال بستی میں یہ جاڑے کی ایک اندھیری رات ہے۔ پاس میں لکڑیوں سے جلنے والے ایک عارضی چولہے پر رکھے ایک برتن میں نئے بُنے ہوئے اونی کمبلوں کو دھونے کے لیے پانی ابالا جا رہا ہے۔ وہاں پھیلی ہوئی مدھم روشنی کا واحد ذریعہ لکڑیوں سے اٹھنے والے یہ شعلے ہی ہیں۔
اونی کمبل درج فہرست قبائل – میگھ اور مینگھ برادریوں کے ذریعے بنائے جاتے ہیں، جو اپنی اس کاریگری کے لیے بہت مشہور ہیں۔ کمبل جب تیار ہو جاتا ہے، تو انہیں بکروال مرد اپنے ہاتھوں سے دھوتے اور سُکھاتے ہیں۔ کمبل کی بُنائی کے لیے سوت اور دھاگے تیار کرنے کا کام عموماً بکروال عورتیں کرتی ہیں، اور دھاگوں کو بکروال برادری کے لوگ گھر پر ہی رنگتے ہیں۔












