دس سال کی نوتن براہمنے یہ جاننے کے لیے بے قرار تھی کہ اس کی دادی احتجاجی مارچ کے ساتھ ممبئی کیوں جا رہی تھیں۔ اس لیے جیجا بائی براہمنے نے اسے اپنے ساتھ لے جانے کا فیصلہ کیا۔ ’’میں اسے ساتھ لائی ہوں تاکہ یہ آدیواسیوں کی تکلیفوں اور مسائل کو سمجھ سکے،‘‘ ۲۶ جنوری کو جنوبی ممبئی کے آزاد میدان میں تیز دھوپ میں بیٹھی جیجا بائی نے کہا۔
’’ہم یہاں دہلی میں [تین زرعی قوانین کے خلاف] احتجاج کر رہے کسانوں کی حمایت کرنے کے لیے آئے ہیں۔ لیکن ہم اپنے کچھ مقامی مطالبات پر بھی توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں،‘‘ ۶۵ سالہ جیجا بائی نے کہا، جو ۲۵-۲۶ جنوری کو نوتن کے ساتھ آزاد میدان میں رکی تھیں۔
وہ ۲۳ جنوری کو ناسک سے روانہ ہوئے کسانوں کے گروپ کے ساتھ ناسک ضلع کے امبے وانی گاؤں سے یہاں آئی تھیں۔
دہائیوں سے، جیجا بائی اور ان کے شوہر، ۷۰ سالہ شرون – ان کا تعلق کولی مہادیو آدیواسی برادری سے ہے – ڈنڈوری تعلقہ کے اپنے گاؤں میں پانچ ایکڑ جنگلاتی زمین پر کھیتی کرتے آ رہے ہیں۔ انہیں ۲۰۰۶ میں حقوق جنگلات قانون پاس ہونے کے بعد زمین کا مالکانہ حق مل جانا چاہیے تھا۔ ’’لیکن ہمیں اپنے نام پر ایک ایکڑ سے بھی کم زمین ملی، جس پر ہم دھان، گیہوں، اڑد اور ارہر اُگاتے ہیں،‘‘ انہوں نے بتایا۔ ’’باقی [زمین] محکمہ جنگلات کے ماتحت ہے، اور اگر ہم زمین کے اس حصے کے پاس جاتے ہیں، تو اہلکار ہمیں پریشان کرتے رہتے ہیں۔‘‘
ممبئی میں یوم جمہوریہ پر احتجاج کے لیے نوتن کے والد، جیجا بائی کے بیٹے، سنجے آسانی سے اپنی بیٹی کو دادی کے ساتھ جانے دینے کے لیے راضی ہو گئے۔ ’’وہ ۲۰۱۸ میں کسانوں کے لمبے مارچ میں آنا چاہتی تھی، جس میں ہم ناسک سے ممبئی کے لیے ایک ہفتہ تک چلے۔ لیکن تب وہ بہت چھوٹی تھی۔ مجھے یقین نہیں تھا کہ وہ اتنی دور پیدل چل پائے گی۔ آج وہ کافی بڑی ہو چکی ہے اور اس بار زیادہ چلنا بھی نہیں ہے،‘‘ جیجا بائی نے کہا۔






