(مترجم: محمد قمر تبریز)


Sonbhadra, Uttar Pradesh
|SAT, JAN 05, 2019
جنگلات کے حقوق کی لڑائی کے حاشیہ پر
Author
Translator

Sweta Daga
’’زندگی میں پہلی بار، میں نے خود کو مضبوط محسوس کیا،‘‘ اتر پردیش کے سون بھدر ضلع کے مجھولی گاؤں میں، زمین اور جنگل کے حقوق کا مطالبہ کرنے کے لیے اپنی آدیواسی برادری کو متحد کرنے کے بارے میں سُکالو گونڈ کہتی ہیں۔
سُکالوں ایک کارکن کے طور پر آل انڈیا یونین آف فاریسٹ ورکنگ پیوپل میں اپنے کام سے متعلق کال کرنے، میٹنگوں کے لیے روانہ ہونے، عدالت میں حاضر ہونے (دیکھیں ’مجھے معلوم تھا کہ میں اُس دن جیل جاؤں گی...‘)، مارچ اور دیگر بے تکان کام شروع کرنے سے پہلے، روزانہ صبح ۵ بجے اٹھتی ہیں اور اپنی گایوں کو دیکھتی ہیں، کھانا پکاتی اور گھر کی صفائی کرتی ہیں۔
یہاں، وہ اوکرا (بھنڈی) کاٹ رہی ہیں، اور ان کا فون ساتھ میں پڑا ہے کیوں کہ وہ یونین کے ایک رکن کے کال کا انتظار کر رہی ہیں۔ ایک پڑوسی کا بچہ انھیں دیکھ رہا ہے۔
(مضمون نگار کی ملاقات سُکالو سے، ان کے ۸ جون ۲۰۱۸ کو پھر سے گرفتار ہونے اور دوبارہ جیل جانے سے پہلے ہوئی تھی۔)
Want to republish this article? Please write to [email protected] with a cc to [email protected]
Donate to PARI
All donors will be entitled to tax exemptions under Section-80G of the Income Tax Act. Please double check your email address before submitting.
PARI - People's Archive of Rural India
ruralindiaonline.org
https://ruralindiaonline.org/articles/جنگلات-کے-حقوق-کی-لڑائی-کے-حاشیہ-پر

