وہ فٹ پاتھ پر خالی ہاتھ کھڑی تھی، گویا وہ کسی غم کے مزار پر کھڑی ہو۔ وہ ان کے قبضے سے کچھ بھی چھڑانے کی کوشش کرنا چھوڑ چکی تھی۔ اس کے دماغ نے اپنے نقصانات کا شمار کرنا بند کر دیا تھا، کیوں کہ اب سب کچھ اس سے دور ہو گیا تھا۔ عدم اعتماد، خوف، غصہ، نا امیدی، اور حیرانی
– کچھ ہی منٹوں میں اس کا من ان تمام جذبات سے ہوکر گزرا۔ اب وہ گلی کے دونوں سروں پر کھڑے باقی لوگوں کی طرح خاموش تماشہ دیکھ رہی تھی۔ آنکھوں میں آنسو برف کی طرح جم گئے تھے اور حلق درد سے خشک ہو چکا تھا۔ اس کی زندگی کو ایک بلڈوزر نے مسمار کر دیا۔ حالانکہ، فسادات نے اسے جو زخم پہنچایا تھا، وہ ابھی تک بھرے نہیں تھے۔
نجمہ کو معلوم تھا کہ اب وقت بدل رہا ہے۔ یہ محض اس کی پڑوسن رشمی کی بدلتی نگاہوں تک محدود نہیں تھا، جسے اس نے تب محسوس کیا تھا جب وہ دہی کے لیے جورن مانگنے گئی تھی۔ نہ ہی یہ اس کے برے خوابوں جیسا تھا، جسے وہ تب سے دیکھ رہی تھی جب سے وہ شاہین باغ کی عورتوں کی تحریک سے جڑی تھی، جس میں وہ خود کو گہرے خندق سے گھری زمین کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے پر اکیلا کھڑا دیکھتی تھی۔ کچھ اس کے اندر بھی ٹوٹ گیا تھا، جس نے اسے چیزوں کے، خود کے، اپنی بچیوں کے، اس ملک کے بارے میں اس کے احساس کو بدل کر رکھ دیا تھا۔ اسے ڈر لگ رہا تھا۔
یہ الگ بات ہے کہ اپنی چیز کے چھین لیے جانے کا احساس اس کی فیملی کے لیے نیا نہیں تھا۔ اسے یقین تھا کہ اس کی دادی بھی اس تکلیف کو جانتی تھیں، جو فرقہ وارانہ فساد برپا کرنے والوں کے ذریعے پھیلائی گئی نفرت سے پیدا ہوئی تھی۔ ایک چھوٹی سے انگلی اس کے دامن کو چھو کر گزری۔ اس نے مڑ کر دیکھا تو ایک بیچاری سی مسکان لیے کوئی اس کا خیر مقدم کر رہا تھا۔ تبھی ایک بار پھر سے اس کے من میں امید کے پھول کھلنے لگے…


