’’بیس سال پہلے – جب نالے صاف تھے – پانی شیشے کی طرح شفاف ہوا کرتا تھا۔ گرے ہوئے سکّے [ندی کی تلی میں] کو اوپر سے دیکھا جا سکتا تھا۔ ہم سیدھے یمنا سے پانی پی سکتے تھے،‘‘ ماہی گیر رمن ہلدر کہتے ہیں، جو اپنی بات پر زور دینے کے لیے اپنے ہاتھ سے چلّو بنا کر اسے گندے پانی میں ڈالتے ہیں، پھر اسے اپنے منھ تک لاتے ہیں۔ ہمیں عجیب سا منھ بناتے ہوئے دیکھ، وہ شرمیلی ہنسی کے ساتھ اسے اپنی انگلیوں کے درمیان سے نیچے گر جانے دیتے ہیں۔
آج کی یمنا میں، پلاسٹک، لپیٹنے والے فوائل، کوڑا کرکٹ، اخبار، مردہ نباتات، کنکریٹ کے ملبے، کپڑوں کے ٹکڑے، کیچڑ، سڑے ہوئے کھانے، بہتے ہوئے ناریل، کیمیاوی فوم اور جل کُمبھی راجدھانی کے اس شہر کی اشیاء اور خیالی کھپت کی ایک سیاہ تصویر پیش کرتی ہیں۔
یمنا کا محض ۲۲ کلومیٹر (یا بمشکل ۱ء۶ فیصد) حصہ قومی راجدھانی خطہ سے ہوکر بہتا ہے۔ لیکن اتنے چھوٹے سے حصے میں جتنا کچرا اور زہر آکر گرتا ہے، وہ ۱۳۷۶ کلومیٹر لمبی اس ندی کی کل آلودگی کا ۸۰ فیصد ہے۔ اسے تسلیم کرتے ہوئے، نیشنل گرین ٹربیونل (این جی ٹی) کی نگرانی کمیٹی کی ۲۰۱۸ کی رپورٹ میں دہلی کی ندی کو ’سیور لائن‘ قرار دے دیا گیا۔ اس کے نتیجہ میں پانی میں آکسیجن کی شدید کمی سے بڑے پیمانے پر مچھلیوں کی موت ہو جاتی ہے۔
پچھلے سال، دہلی میں ندی کے جنوبی حصہ کے کالندی کُنج گھاٹ پر ہزاروں مچھلیاں مردہ پائی گئیں، اور ندی کے دہلی والے حصے میں دیگر آبی زندگی تقریباً ایک سالانہ واقعہ بن گئی ہے۔
’’ندی کے حیاتیاتی نظام کو برقرار رہنے کے لیے محلول آکسیجن (پانی میں آکسیجن کی مقدار) کی سطح ۶ یا اس سے زیادہ ہونی چاہیے۔ مچھلی کے زندہ رہنے کے لیے محلول آکسیجن کی یہ سطح ۴-۵ ہونی چاہیے۔ یمنا کے دہلی والے حصے میں، یہ سطح صفر سے ۰ء۴ کے درمیان ہے،‘‘ پرینک ہیرانی کہتے ہیں، جو شکاگو یونیورسٹی میں ٹاٹا سینٹر فار ڈیولپمنٹ کے واٹر-ٹو-کلاؤڈ پروجیکٹ کے ڈائرکٹر ہیں۔ یہ پروجیکٹ ندیوں کی حقیقی آلودگی کا خاکہ تیار کرتا ہے۔











