’’کسی بھی ماں باپ کو اپنے بچے کو کھونے کا غم نہ برداشت کرنا پڑے،‘‘ سروکرم جیت سنگھ ہُندل کہتے ہیں، جن کے بیٹے نوریت سنگھ کی موت ۲۶ جنوری کو دہلی میں کسانوں کی ٹریکٹر ریلی کے دوران ہو گئی تھی۔
اتر پردیش کے ڈِبڈِبا گاؤں میں ان کے گھر پر، نوریت کی تصویر کمرے کی ایک دیوار پر لٹکی ہوئی ہے، جہاں ۴۵ سالہ سروکرم جیت اور ان کی بیوی، ۴۲ سالہ پرم جیت کور اظہار تعزیت کے لیے آ رہے مہمانوں کو بیٹھاتے ہیں۔ ان کے بیٹے کی موت سے والدین کی زندگی میں ایک ناگزیز خلاء پیدا ہو گیا ہے۔ ’’وہ کھیتی میں میری مدد کرتا تھا۔ وہ ہماری دیکھ بھال کرتا تھا۔ وہ ایک ذمہ دار بچہ تھا،‘‘ سروکرم جیت کہتے ہیں۔
۲۵ سالہ نوریت، دہلی میں یوم جمہوریہ کی ریلی میں شرکت کرنے کے لیے دہلی- یوپی سرحد پر واقع غازی پور گئے تھے۔ ان کے دادا، ۶۵ سالہ ہردیپ سنگھ ڈبڈبا، ۲۶ نومبر ۲۰۲۰ کو دہلی کی سرحدوں پر کسانوں کا احتجاجی مظاہرہ شروع ہونے کے بعد سے وہیں قیام کیے ہوئے تھے۔ نوریت ٹریکٹر چلا رہے تھے، جو دین دیال اُپادھیائے مارگ پر دہلی پولیس کے ذریعہ لگائے گئے سکیورٹی بیریکیڈ کے پاس پلٹ گیا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ نوریت کی موت ٹریکٹر پلٹنے کے دوران انہیں لگی چوٹ کے سبب ہوئی تھی، لیکن ان کی فیملی کا ماننا ہے کہ حادثہ ہونے سے قبل انہیں گولی ماری گئی تھی۔ ’’ہم اسے عدالت میں ثابت کریں گے،‘‘ سروکرم جیت دہلی ہائی کورٹ میں ہردیپ سنگھ کے ذریعہ دائر عرضی کاحوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں، جس میں انہیں نوریت کی موت کی باقاعدہ جانچ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔
اس اندوہناک حادثہ کے بعد، شمال مغربی یوپی کے سرحدی ضلع رامپور – جہاں ڈبڈبا واقع ہے – کے کسان ستمبر ۲۰۲۰ میں مرکزی حکومت کے ذریعہ پاس کیے گئے نئے زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کا مطالبہ مزید پختگی سے کرنے لگے ہیں۔ رامپور کی سرحد کے اُس پار، اتراکھنڈ کے اودھم سنگھ نگر اور کاشی پور ضلعوں میں، کماؤں علاقے میں، کسانوں کا عزم اُتنا ہی مضبوط ہے۔







