عثمان آباد ضلع میں جب کورونا کی دوسری لہر پہنچی، تو اس کا اثر بڑی تیزی سے نظر آنے لگا۔ تلجاپور تحصیل میں واقع تلجا بھوانی مندر میں جمع ہونے والی بھیڑ کی وجہ سے بھی یہ بحران مزید گہرا ہونے لگا۔
جے سنگھ پاٹل، جو کورونا کی وجہ سے مرتے مرتے بچے تھے، نے قسم کھائی ہے کہ وہ مندر تب تک نہیں جائیں گے، جب تک وہاں جانا محفوظ نہیں ہو جاتا۔ وہ کہتے ہیں، ’’میں ایک بھکت ہوں۔ میں لوگوں کے عقیدہ کی قدر کرتا ہوں۔ لیکن، وبائی مرض کے دوران مندروں کو کھولنا عقلمندی بھرا فیصلہ نہیں ہے۔‘‘
۴۵ سالہ جے سنگھ پاٹل، تلجا بھوانی ٹیمپل ٹرسٹ میں ایک کلرک کی حیثیت سے کام کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’اس سال فروری میں، مجھے سینکڑوں لوگوں کی قطاروں کو سنبھالنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ بھکت کافی جارح ہوتے ہیں۔ اگر انہیں مندر میں داخل ہونے سے روکا جائے، تو وہ آپ پر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ ضروری اسی بھیڑ کو سنبھالنے کی وجہ سے میں کورونا سے متاثر ہو گیا۔‘‘ یہ مندر مہاراشٹر کے سب سے مشہور تیرتھ استھلوں (مذہبی مقامات) میں سے ایک ہے، اور یہاں روزانہ پورے ہندوستان سے ہزاروں لوگ درشن (زیارت) کرنے کے لیے آتے ہیں۔
وہ ایک اسپتال کے آئی سی یو میں دو ہفتوں تک آکسیجن کے سہارے رہے۔ ان کے خون کے آکسیجن لیول میں ۷۵ سے ۸۰ فیصد تک کی گراوٹ آئی، جب کہ ڈاکٹر بتاتے ہیں کہ آکسیجن کی سطح کا ۹۲ فیصد سے کم ہونا تشویش کی بات ہے۔ جے سنگھ کہتے ہیں، ’’میں کسی طرح بچ گیا۔ لیکن، اتنے مہینے گزر جانے کے بعد بھی مجھے تھکان محسوس ہوتی ہے۔‘‘











