گرد و غبار کے ایک چھوٹے سے بادل اور انجن کی پھٹ پھٹ کی شور میں موٹر سائیکل پر سوار یہ اڈکّل چیلوی آ رہی ہیں۔ انہوں نے نیلے رنگ کی ساڑی پہن رکھی ہے، ان کی ناک میں ایک بڑی سی نتھ ہے اور چہرے پر مسکراہٹ بکھری ہوئی ہے۔ کچھ منٹ پہلے انہوں نے ہمیں اپنے مرچوں کے کھیت سے ہی اپنے تالا لگے گھر کے باہر انتظار کرنے کے لیے کہا تھا۔ ابھی دوپہر کا وقت ہے اور مارچ کا مہینہ چل رہا ہے، لیکن رام ناتھ پورم میں سورج اپنا قہر برپا کر رہا ہے۔ ہمارے سایے چھوٹے ہیں، لیکن پیاس بہت زیادہ لگی ہوئی ہے۔ اپنی دو پہیہ گاڑی کو میٹھے امرود کی چھاؤں میں کھڑی کرنے کے بعد اڈکّل چیلوی نے جلدی سے سامنے کا دروازہ کھولا اور ہمیں اندر آنے کے لیے کہا۔ اس دوران چرچ کی گھنٹی بجتی ہے۔ وہ ہمارے لیے پانی لاتی ہیں اور ہم بات چیت کا سلسلہ شروع کرنے کے لیے بیٹھ جاتے ہیں۔
ہم اپنی بات کا آغاز ان کی موٹر سائیکل سے کرتے ہیں۔ ایک چھوٹے سے گاؤں میں ان عمر رسیدہ خاتون کے لیے موٹر سائیکل چلانا عام بات نہیں ہے۔ ’’لیکن یہ بہت کام کی چیز ہے،‘‘ ۵۱ سالہ خاتون ہنستے ہوئے کہتی ہیں۔ انہوں نے بہت جلد اسے چلانا سیکھ لیا تھا۔ ’’جب میں آٹھویں کلاس میں تھی تو میرے بھائی نے مجھے سائیکل چلانا سکھایا تھا، لہٰذا میرے لیے یہ مشکل نہیں تھا۔‘‘
وہ کہتی ہیں کہ اگر دو پہیہ گاڑی نہیں ہوتی تو زندگی مزید مشکل ہوتی۔ ’’میرے شوہر کئی سالوں تک گھر سے دور رہے۔ انہوں نے پہلے سنگاپور میں اور پھر دبئی میں اور بعد میں قطر میں بطور پلمبر کام کیا۔ میں نے تنہا اپنی بیٹیوں کی پرورش کی اور کھیتی باڑی بھی کی۔‘‘
جے اڈکّل چیلوی ہمیشہ سے کسان رہی ہیں۔ وہ آلتی پالتی مار کر فرش پر بیٹھ جاتی ہیں۔ ان کی پیٹھ بالکل سیدھی ہے اور ایک ایک چوڑی سے مزین ان کے دونوں ہاتھ گھٹنوں پر ٹکے ہوئے ہیں۔ وہ شیوگنگئی ضلع کے کالیارکوئل میں ایک کسان گھرانے میں پیدا ہوئی تھیں۔ یہ جگہ موڈوکولاتور بلاک میں واقع ان کی بستی، پی موتووجیہ پورم سے سڑک کے راستے ڈیڑھ گھنٹہ کی دوری پر واقع ہے۔ ’’میرے بھائی شیوگنگئی میں رہتے ہیں۔ وہاں ان کے بہت سے بورویل ہیں۔ اور یہاں، میں ۵۰ روپے فی گھنٹہ میں آبپاشی کے لیے پانی خریدتی ہوں۔‘‘ رام ناتھ پورم میں پانی ایک بڑا کاروبار ہے۔




























