تمل ناڈو میں رہنے والے ناگی ریڈی بولتے کنڑ ہیں، اور پڑھتے تیلگو میں ہیں۔ دسمبر کی شروعات میں، ہم چند کلومیٹر پیدل چل کر ان سے ملنے جاتے ہیں۔ وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ ان کا گھر ’’بس پاس میں ہی ہے‘‘۔ لیکن، اصل میں یہ ایک الگ دنیا ہے جو قریب کی ایک گہری جھیل، املی کے ایک بڑے درخت کے پیچھے، یوکلپٹس کی پہاڑی، آم کے باغ، مویشیوں کے ایک باڑے، ایک پہریدار کتے، اور شور مچاتے ہوئے پلّوں سے بھرے منظرنامہ سے بنی ہے۔
ملک کے کسانوں کو جتنے قسم کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ناگی ریڈی بھی ان تمام مسائل سے دوچار ہوتے ہیں۔ لیکن انہیں ایک اور مسئلہ درپیش ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنی موجودہ فصلوں کو چھوڑ کر کچھ اور اُگانے کے بارے میں سوچنے لگے ہیں۔ انہیں سب سے بڑا خطرہ ان بڑے اور خطرناک جانوروں سے محسوس ہوتا ہے، جن کے نام موٹئی وال، مکّانا اور گیری ہیں۔
یہاں کے کسانوں کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ ان جانوروں کو ہلکے میں نہیں لیا جا سکتا۔ خاص کر جب ان میں سے ہر ایک کا وزن ۴ سے ۵ ہزار کلو کے درمیان ہو۔ حالانکہ مقامی باشندوں کو ان خطرناک ہاتھیوں کے صحیح وزن اور اونچائی کا کوئی علم نہیں ہے۔
ہم کرشنا گیری ضلع میں ہیں، جس کی سرحدیں دو ریاستوں – تمل ناڈو اور کرناٹک سے ملتی ہیں۔ اور ناگی ریڈی کا چھوٹا سا گاؤں واڈرا پلایم جو کہ دینکنی کوٹّئی تعلق میں ہے، جنگل سے زیادہ دور نہیں ہے۔ ظاہر ہے، یہ گاؤں ہاتھیوں کی پہنچ سے بھی دور نہیں ہے۔ اور، ہم ان کے گھر کے سیمنٹ سے بنے جس برآمدہ میں بیٹھے ہوئے ہیں، وہاں سے کچھ میٹر پر ہی ان کا کھیت شروع ہوتا ہے۔ گاؤں کے لوگ راگی کی کھیتی کرنے والے اس 86 سالہ کسان کو ناگنّا کہہ کر پکارتے ہیں۔ راگی غذائیت سے بھرپور ایک اناج ہے۔ وہ ایک تجربہ کار بزرگ ہیں اور اپنی طویل زندگی میں انہوں نے کھیتی کے اچھے، خراب، اور خطرناک – تینوں دور دیکھے ہیں۔
’’میں جب چھوٹا تھا، تو راگی کی مہک سے آنئی (ہاتھی) کبھی کبھار ہی آتے تھے۔‘‘ اور اب؟ ’’وہ اب اکثر آ جاتے ہیں، انہیں فصل اور پھل کھانے کی عادت ہو گئی ہے۔‘‘
اس کی دو وجہیں ہیں، ناگی تمل میں تفصیل سے بتاتے ہیں۔ ’’۱۹۹۰ کے بعد، اس جنگل میں ہاتھیوں کی تعداد میں تو اضافہ ہوا، لیکن جنگل کا سائز اور پیڑ پودے کم ہونے لگے۔ لہٰذا، اپنے کھانے کی تلاش میں وہ بستیوں میں آتے رہتے ہیں۔‘‘ وہ لمبی سانس لیتے ہیں اور مسکراتے ہوئے آگے کہتے ہیں، ’’جس طرح آپ کسی اچھے ہوٹل میں کھانے کے بعد اپنے دوستوں کو اس کے بارے میں بتاتے ہیں، اسی طرح ان ہاتھیوں نے بھی اپنے کنبے کو بتایا ہوگا۔‘‘ یہ عجیب و غریب موازنہ ان کے لیے محض ایک مذاق ہے، لیکن میرے لیے حیرانی کی بات ہے۔
































