چندریکا بیہرا کی عمر نو سال ہے اور وہ تقریباً دو سالوں سے اسکول جا رہی ہے۔ وہ بارہ بنکی گاؤں کے اُن ۱۹ طلباء میں شامل ہے جنہیں پہلی سے پانچویں کلاس میں ہونا چاہیے تھا، لیکن یہ بچے ۲۰۲۰ سے لگاتار اسکول نہیں جا پا رہے ہیں۔ وہ بتاتی ہے کہ اس کی ماں اسے اسکول نہیں بھیجتی ہیں۔
بارہ بنکی میں سال ۲۰۰۷ میں ایک اسکول کھولا گیا تھا، لیکن ۲۰۲۰ میں اوڈیشہ حکومت نے اسے بند کر دیا۔ اس پرائمری اسکول میں چندریکا کی طرح، گاؤں کے سنتھال اور منڈا آدیواسیوں کے زیادہ تر بچے پڑھتے تھے، جن سے کہا گیا کہ وہ اپنا داخلہ جامو پسی گاؤں کے اسکول میں کرا لیں، جو کہ یہاں سے تقریباً ساڑھے تین کلومیٹر دور ہے۔
چندریکا کی ماں، مامی بیہرا کہتی ہیں، ’’بچے روزانہ اتنی دور پیدل چل کر نہیں جا سکتے۔ اور اس لمبے راستے میں سبھی بچے آپس میں لڑنے لگتے ہیں۔ ہم غریب مزدور ہیں۔ ہم اپنے لیے کام ڈھونڈنے جائیں یا روزانہ ان بچوں کو ان کے اسکول چھوڑیں اور وہاں سے واپس لائیں؟ حکام کو چاہیے کہ وہ ہمارا یہ اسکول دوبارہ کھول دیں۔‘‘
اپنی بے چینی کا اظہار کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ ان کے بچوں کی طرح ہی ۶ سے ۱۰ سال کے زیادہ تر بچے تعلیم حاصل نہیں کر پائیں گے۔ عمر کی ۳۰ویں دہائی میں چل رہی اس ماں کو یہ خوف بھی ستا رہا ہے کہ جاجپور ضلع کے دانَ گدی بلاک کے جنگل میں بچہ چور بھی چھپے ہو سکتے ہیں۔
اپنے بیٹے جوگی کے لیے مامی نے کہیں سے ایک پرانی سائیکل کا انتظام کر لیا تھا۔ جوگی اپنے گاؤں سے ۶ کلومیٹر دور، کسی اور اسکول میں ۹ویں کلاس میں پڑھتا ہے۔ اس کی بڑی بہن مونی، جامو پسی کے اسکول میں ۷ویں کلاس میں پڑھتی ہے، جہاں اسے پیدل جانا پڑتا ہے۔ سب سے چھوٹی بہن چندریکا گھر پر ہی رہتی ہے۔
مامی سوال کرتی ہیں، ’’ہماری نسل کے لوگوں کو بدن میں طاقت رہنے تک پیدل چلنا پڑا، اونچائی پر چھڑنا پڑا اور کام کرنا پڑا ہے۔ کیا ہم اپنے بچوں سے بھی یہی امید رکھیں؟‘‘





















