دکشن کنڑ کے بیلتانگڑی تعلقہ کے بے آب و گیاہ اور پہاڑی علاقوں میں گائے کے گلے میں بندھی گھنٹیوں سے ٹن-ٹن-ٹن کی آواز اب شاید ہی کبھی سنائی دیتی ہے۔ ہوکرپّا کہتے ہیں، ’’اب یہ گھنٹیاں کوئی نہیں بناتا۔‘‘ لیکن وہ گائے کے گلے میں باندھی جانے والی جس گھنٹی کی بات کر رہے ہیں، وہ کوئی عام گھنٹی نہیں ہے۔ ان کے گاؤں، شیباجے میں مویشیوں کے گلے میں جو گھنٹیاں باندھی جاتی ہیں، وہ کسی دھات سے نہیں بنتیں – بلکہ بانس سے اسے ہاتھوں کے ذریعے بنایا جاتا ہے۔ سُپاری کی کھیتی کرنے والے اور ۶۰ سال سے زیادہ کی عمر کے ہو چکے ہوکرپّا، اس انوکھی گھنٹی کو سالوں سے بنا رہے ہیں۔
ہوکرپّا بتاتے ہیں، ’’پہلے میں مویشی چرانے کا کام کرتا تھا۔ کئی بار ایسا ہوتا تھا کہ ہمارے مویشی کہیں بھٹک جاتے تھے اور ہمیں پتہ نہیں چلتا تھا کہ وہ کہاں گئے، اسی لیے ہمارے ذہن میں ان کے گلے میں باندھنے والی گھنٹی بنانے کا خیال آیا۔‘‘ گھنٹیوں کی آواز سے اب انہیں پہاڑیوں میں یا کسی دوسرے کے کھیت میں بھٹک کر چلی جانے والی گایوں کا پتہ لگانے میں مدد ملنے لگی۔ لہٰذا، جب گاؤں کے ایک بزرگ آدمی نے انہیں یہ ہنر سکھانے کی پیشکش کی، تو وہ فوراً اس کے پاس پہنچ گئے اور اسے بنانا شروع کر دیا۔ کچھ دنوں بعد، وہ اس ہنر میں ماہر ہو گئے اور مختلف سائز کی گھنٹیاں بنانے لگے۔ ان کے آس پاس کے علاقوں میں بانس آسانی سے دستیاب ہونے کی وجہ سے انہیں کافی مدد ملی – بیلتانگڑی میں واقع ان کا گاؤں کُدرے مُکھ نیشنل پارک کے محفوظ قرار دیے گئے جنگلات میں پڑتا ہے۔ یہ پارک کرناٹک کے جنوبی گھاٹوں میں واقع ہے، جہاں پر بانس کی تین قسمیں پائی جاتی ہیں۔
ہوکرپّا ’تولو‘ زبان بولتے ہیں، جس میں بانس کو ’بومکا‘ کہتے ہیں۔ جب کہ کنڑ زبان میں گائے کے گلے میں باندھی جانے والی بانس سے بنی گھنٹی کو ’مونٹے‘ کہتے ہیں۔ شیباجے گاؤں کی ثقافتی زندگی میں اس گھنٹی کا ایک خاص مقام ہے – وہاں کا دُرگا پرمیشوری مندر روایتی طور پر اس لیے مشہور ہے، کیوں کہ مندر کے دیوتا کو ’مونٹے‘ چڑھایا جاتا ہے۔ مندر کا احاطہ بھی ’مونٹے تڑکا‘ کہلاتا ہے۔ یہاں آنے والے عقیدت مند اپنے مویشیوں کی حفاظت کے لیے دعا کرتے ہیں اور من کی مرادیں مانگتے ہیں۔ ان میں سے کچھ لوگ ہوکرپّا سے ہی بانس کی یہ گھنٹیاں بنواتے ہیں۔ ہوکرپّا بتاتے ہیں، ’’لوگ اسے ہرکے [منّت کے طور پر پیش کیا جانے والا نذرانہ] کے لیے خریدتے ہیں۔ اگر کسی گائے نے [مثال کے طور پر] بچھڑا نہیں دیا، تو وہ اسے دیوتا کو چڑھاتے ہیں۔ ایک گھنٹی بنوانے کے وہ ۵۰ روپے دیتے ہیں۔ اگر گھنٹیاں بڑی ہوئیں، تو اس کی قیمت ۷۰ روپے ہوتی ہے۔‘‘


