شانتی مانجھی ۳۶ سال کی عمر میں اس سال پہلی بار نانی بن گئیں۔ اُس رات انہوں نے آخرکار اپنی زندگی میں پہلی بار اسپتال کا دورہ کیا تھا، جب کہ وہ خود دو دہائیوں کے عرصے میں بغیر کسی ڈاکٹر یا نرس کی مدد کے، اپنے گھر کے کونے میں ہی سات بچوں کو جنم دے چکی ہیں۔
ان کی سب سے بڑی بیٹی ممتا کو جب گھر پر دردِ زہ شروع ہوا، تو اس دن کو یاد کرتے ہوئے وہ بتاتی ہیں، ’’میری بیٹی کو کئی گھنٹے سے دردِ زہ ہو رہا تھا، لیکن بچہ باہر نہیں آیا۔ ہمیں ایک ٹیمپو بلانا پڑا۔ ’ٹیمپو‘ سے ان کی مراد تین پہیے والی مسافر گاڑی سے ہے، جسے صرف چار کلومیٹر دور واقع شیوہر ٹاؤن سے گاؤں تک آنے میں ایک گھنٹہ لگ گیا اور وہ غروب آفتاب کے وقت ان کے گھر پہنچا۔ ممتا کو فوراً شیوہر کے ضلع اسپتال لے جایا گیا، جہاں انہوں نے کئی گھنٹے کے بعد ایک لڑکے کو جنم دیا۔
شانتی ٹیمپو کے کرایے پر ابھی بھی اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں، ’’اس نے ہم سے ۸۰۰ روپے لیے۔ ہمارے ٹولہ کا کوئی بھی آدمی اسپتال نہیں جاتا ہے، اس لیے ہمیں معلوم نہیں ہے کہ کوئی ایمبولینس بھی ہے۔‘‘
شانتی کو اُسی رات گھر لوٹنا پڑا، یہ دیکھنے کے لیے کہ ان کی سب سے چھوٹی بچی، کاجل نے سونے سے پہلے کچھ کھایا ہے یا نہیں۔ وہ کہتی ہیں، ’’میں نانی بن چکی ہوں، لیکن مجھے ماں کی بھی ذمہ داری نبھانی ہوتی ہے۔‘‘ ممتا اور کاجل کے علاوہ ان کی تین اور بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں۔
مانجھی فیملی شمالی بہار کے شیوہر بلاک اور ضلع میں مادھوپور اننت گاؤں کے باہر تقریباً ایک کلومیٹر دور واقع موسہر ٹولہ میں رہتی ہے۔ اس ٹولہ میں مٹی اور بانس سے بنی تقریباً ۴۰ جھونپڑیوں میں ۳۰۰-۴۰۰ لوگ رہتے ہیں۔ ان سبھی کا تعلق موسہر ذات سے ہے، جس کا شمار بہار کی سب سے پس ماندہ مہا دلت برادری میں ہوتا ہے۔ اس کی تنگ گلیوں کے ایک کونے میں کچھ بکریاں اور گائے کھونٹے سے بندھی ہیں۔










