دونوں کی عمر ۱۷ سال ہے اور دونوں ہی حاملہ ہیں۔ وہ دونوں کبھی کبھی کافی زور سے ہنسنے لگتی ہیں اور اپنے والدین کی اس تعلیم کو بھول جاتی ہیں کہ نظریں نیچے رکھنی ہیں۔ لیکن آگے کیا ہوگا، یہ سوچ کر دونوں ڈری ہوئی ہیں۔
سلیمہ پروین اور اسماء خاتون (نام بدل دیے گئے ہیں) پچھلے سال ساتویں کلاس میں تھیں، حالانکہ گاؤں کا سرکاری اسکول پورے تعلیمی سال ۲۰۲۰ کے لیے بند رہا۔ جیسے ہی لاک ڈاؤن شروع ہوا، ان کی فیملی کے مرد، جو پٹنہ، دہلی اور ممبئی میں کام کرتے تھے، بہار کے ارریہ ضلع میں بنگالی ٹولہ نامی ایک بستی میں واقع اپنے گھر لوٹ آئے۔ اس کے بعد ان کی شادیاں ہونے لگیں۔
’’کورونا میں ہوئی شادی،‘‘ اسماء کہتی ہیں، جو دونوں میں سے کچھ زیادہ ہی باتونی ہیں۔
سلیمہ کا نکاح دو سال پہلے ہوا تھا، اور وہ تقریباً ۱۸ سال کی عمر میں اپنے شوہر کے ساتھ رہنے والی تھیں۔ پھر لاک ڈاؤن آ گیا، اور ان کے ۲۰ سالہ شوہر، جو درزی کا کام کرتے ہیں، اور ان کی فیملی – یہ لوگ بھی اسی بستی میں رہتے ہیں – نے ضد کی کہ وہ ان کے گھر آ جائیں۔ یہ جولائی ۲۰۲۰ کے آس پاس کی بات ہے۔ ان کے پاس کوئی کام نہیں تھا، وہ دن بھر گھر پر رہتے تھے۔ دیگر مرد بھی گھر پر ہی رہتے تھے – ایسے میں کام کے لیے دو اور ہاتھ مل جائے، تو اس سے اچھی بات اور کیا ہو سکتی ہے۔
اسماء کے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ وہ ذہنی طور پر تیار ہو سکے۔ ان کی بڑی بہن کا ۲۰۱۹ میں کینسر کی وجہ سے انتقال ہو گیا تھا اور پچھلے سال جون میں ان کی بہن کے شوہر (بہنوئی)، جو بڑھئی ہیں، نے لاک ڈاؤن کے دوران اسماء سے شادی کرنے پر زور دیا۔ جون ۲۰۲۰ میں ان کی شادی کر دی گئی۔
دونوں میں سے کسی کو بھی یہ پتا نہیں ہے کہ بچے کیسے پیدا ہوتے ہیں۔ ’’ماں یہ باتیں نہیں سمجھاتی،‘‘ اسماء کی ماں، رخسانہ کہتی ہیں، جسے سن کر یہ لڑکیاں اور زور سے ہنسنے لگتی ہیں۔ ’’شرم کی بات ہے۔‘‘ سبھی کی رائے ہے کہ یہ اور دیگر معلومات فراہم کرنے والا صحیح فرد دلہن کی بھابھی، یعنی اس کے بھائی کی بیوی ہے۔ لیکن اسماء اور سلیمہ نند- بھابھی ہیں اور دونوں میں سے کوئی بھی حمل یا زچگی کے بارے میں ایک دوسرے کو صلاح نہیں دے سکتا۔










