کھانڈو وَن
کھانڈو وَن جل رہا ہے، دھرم راج!
وَن سے اٹھتا گاڑھا سیاہ دھواں
ہماری ناک کی سرنگوں سے ہوتا ہوا
پھیپھڑوں کے گہواروں میں داخل ہوتا جاتا ہے
پر تشدد جانوروں کی مانند…
اندھیرے میں چمکتی ہیں
انگاروں جیسی آنکھیں
ڈر سے گھگھی بندھ جاتی ہے ہماری
اور ہمارے پھیپھڑے سوکھے ہوئے انگور کے گچھوں کی طرح
سیاہ، بدرنگ رس ٹپکاتے؛
قوم کا دَم گھُٹ رہا ہے
یوگی راج!
کھانڈو وَن جل رہا ہے!!
شہری سیٹھوں کے یگیوں سے پریشان
راجاؤں کی حوس والے یگیوں سے
پوری طرح لیس
برہمن کی شکل و صورت والی آگ کو
آکسیجن چاہیے
اپنی جوانی کو روشن کرنے کے لیے؛
اسے چاہیے تازہ پیڑوں کا لہو
اسے چاہیے مردہ جانوروں کی بدبو
اسے چاہیے…
انسانی چیخ…
لکڑیوں کی چٹختی آواز جیسی پکار میں،
’تتھاستو‘ کرشن بولا
’کام ہو جائے گا‘ ارجن نے مونچھ پر ہاتھ پھیرا…
اور کھانڈو وَن شعلے سے چمک اٹھا…
کھانڈو وَن جل رہا ہے
یوگیشور!
دَم گھُٹنے سے بھاگ رہے ہیں
جانور چیختے ہوئے
پروں سے پکڑ کر چڑیوں کو واپس لپٹوں میں پٹخ رہی ہے
آگے؛
بھیل، کول، کیرات، ناگ…جنگل سے باہر کے لوگ
ایک چُلّو آکسیجن کے لیے چھٹپٹاتے ہوئے
بھاگ رہے ہیں جنگل سے باہر -
تراہیمام!
کھانڈو وَن کی سرحد پر کھڑا ہے کرشن،
نشے سے مدہوش ہیں آنکھیں،
کھڑا ہے ارجن ڈیوٹی پر
آگ سے بچ کر بھاگتے لوگوں کو
موت کے گھاٹ اتارتا
واپس آگ کے شعلوں میں جھونکتا…
ہمیں آکسیجن بخش دو
مہابھارت کے فاتحین
یہ بھارت تمہارا
یہ مہابھارت تمہارا
یہ دھرتی، یہ دولت – ساز و سامان،
یہ مذہب، یہ پالیسی
معلوم – نامعلوم سب تمہارا
ہمیں بس ایک سیلنڈر آکسیجن چاہیے…مدھو سودن
یہ آکسیجن آگ کی غذا نہیں
ہماری زندگی ہے
تم نے کہا تھا نا!
آگ روح کو نہیں جلا سکتی
لیکن یہ جنگل ہماری روح تھا اور
اب یہ جل رہا ہے
کھانڈو وَن جل رہا ہے
گیتیشور!
کھانڈو وَن ایک بڑی چِتا جیسا
دھو – دھو کر
جل رہا ہے!!



