کیا اس شہر کے بچے یتیم ہیں؟
1. کیلنڈر دیکھئے
اگست آتا ہے اور گزر جاتا ہے
جن سے نہیں گزرتا، ان کی آنکھ سے بہتا ہے
کانپتے ہاتھوں سے گرتا ہے اور ٹوٹ جاتا ہے
ناک کے اندر سانس کو نہیں گھسنے دیتا
دَم چھین لیتا ہے
کچھ کا برا خواب
کچھ کے گلے کی پھانس
میرے گورکھپور کی ماؤں کا
لعل ہے
اگست کچھ کے لیے پورا سال ہے
2. مگر ماؤں کا ڈر صحیح نہیں ہے
باپوں نے بھی جھوٹ کہا تھا سب کہتے ہیں
اسپتالوں میں زندگی بخش ہوا نہیں ملنے کی بات،
ایک مغل حملہ آور کی سازش تھی
اصل میں تو اتنا آکسیجن موجود ہے
کہ ہر گلی نُکّڑ پر
آکسیجن کھینچتی اور چھوڑتی نظر آتی ہیں گئو ماتا
اتنا آسان ہے کہ اب تو آکسیجن کا نام سنتے ہی
گھُٹنے لگتا ہے دَم
3. یہ کس کے بچے ہیں جن کے چہرے یتیم ہوئے جاتے ہیں
یہ کس کے بچے ہیں جنہیں نالوں میں پیدا ہوئے مچھر کاٹ جاتے ہیں
یہ کس کے بچے ہیں
جن کے ہاتھوں میں بانسری نہیں
کون ہیں ان کے ماں باپ
کہاں سے آتے ہیں یہ لوگ....
جن کی جھگیاں دوسری دنیا
کی جھانکیوں میں شامل نہیں ہوتیں
جن کے گھروں میں رات کے آدھے
پہر کرشن اوتار نہیں لیتے
بس پیدا ہو جاتے ہیں
اور انہیں آکسیجن چاہیے!
چاہیے انہیں اسپتال کے بیڈ!
کمال ہے!
4. گورکھ کی دھرتی پھٹنے کو ہے
کبیر ماتم کے رقص میں مصروف ہیں
آگ کی لپٹوں میں جلتے ہیں راپتی کے کنارے
جس شہر کو زار زار رونا تھا
اس کی آواز خاموش ہے
صوبے کے مہنت کا کہنا ہے
دیوتاؤں کا روحانی وقار
بچوں کی قربانی مانگتا ہے



