’’شالیت جائیچے…شالیت…ویبھو…ویبھو…شالیت… [اسکول جانا ہے…اسکول…]۔‘‘
پرتیک اس بات کو بار بار دوہراتا ہے، ایک کلاس میٹ (ہم جماعت) کو فون کرتا ہے جو وہاں نہیں ہے۔ وہ اپنے ایک کمرے کے مٹی سے بنے گھر کی دہلیز پر بیٹھا ہے، اور بچوں کے ایک جھنڈ کو پاس میں کھلکھلاتے اور کھیلتے ہوئے دیکھ رہا ہے۔ یہ بچہ (۱۳ سال) صبح سے شام تک یہیں بیٹھا رہتا ہے۔ یا سامنے کے باڑے میں ایک درخت سے ٹیک لگا کر کھڑا رہتا ہے، اپنی دنیا کو دیکھتا رہتا ہے – جو ان ۱۱ مہینوں میں شاید ہی کبھی اُس دہلیز اور باڑے سے آگے بڑھی ہے جس میں وہ درخت اور گئوشالہ ہے۔
راشین گاؤں کے دوسرے بچے پرتیک کے ساتھ نہیں کھیلتے ہیں۔ اس کی ۳۲ سالہ ماں شاردا راؤت بتاتی ہیں، ’’یہاں کے بچے اس کی بات نہیں سمجھتے ہیں، وہ اکیلا رہ جاتا ہے۔‘‘ انہیں پہلے ہی محسوس ہو گیا تھا کہ پرتیک گاؤں کے دوسرے بچوں سے الگ ہے، اور یہاں تک کہ ان کے اپنے بڑے بچے سے بھی۔ وہ ۱۰ سال کی عمر تک زیادہ کچھ بول پانے اور اپنے کام کر پانے کے لائق نہیں تھا۔
جب وہ آٹھ سال کا تھا، تب احمد نگر ضلع کے کرجت تعلقہ میں واقع اس کے گاؤں سے تقریباً ۱۶۰ کلومیٹر دور سولاپور میں حکومت کے ذریعے چلائے جا رہے چھترپتی شیواجی مہاراج سرووپچار روگنالیہ میں پرتیک کو مائلڈ ڈاؤن سنڈورم ہونے کی رپورٹ آئی تھی۔ شاردا یاد کرتی ہیں، ’’۱۰ سال کی عمر تک وہ بات نہیں کر پاتا تھا۔ لیکن پھر اس نے اسکول جانا شروع کر دیا اور تب سے وہ مجھے آئی [ماں] بلاتا ہے۔ وہ خود سے بیت الخلاء جاتا ہے اور غسل کرتا ہے۔ میرے بیٹے کے لیے اسکول ضروری ہے۔ اس نے کچھ حروف بھی سیکھے ہیں، اور اگر وہ اسکول جانا جاری رکھتا ہے، تو اس کی حالت بہتر ہو سکتی ہے۔ لیکن پھر یہ وبائی مرض آ گیا…‘‘ ان کی آواز مدھم ہو جاتی ہے۔
مارچ ۲۰۲۰ میں کووڈ۔۱۹ وبائی مرض کی شروعات میں پرتیک نے جس رہائشی اسکول میں داخلہ لیا تھا، اس نے اپنا کیمپس بند کر دیا۔ وہ دماغی طور سے معذور ۲۵ طلباء میں سے ایک تھا – سبھی لڑکے، جن کی عمر ۶ سے ۱۸ سال کے درمیان تھی – انہیں گھر واپس بھیج دیا گیا۔











