’’یہ کبھی ۱۰۰ دن نہیں ہوتا ہے۔ اس سال ابھی تک صرف ۵۰ دن، بس،‘‘ آر ونجا نے کہا۔ وہ بنگلا میڈو بستی میں ویلی کیتھن مارم (ولایتی ببول) کے درخت کے سایہ میں تقریباً ۱۸ عورتوں اور ۲-۳ مردوں کے ساتھ زمین پر بیٹھی تھیں۔ وہ ۲۰۱۹ میں یکم دسمبر کی صبح نور نل ویلئی (سو دنوں کے کام)، جیسا کہ وہ تمل میں منریگا کے کام کو کہتے ہیں، پر بات کر رہے تھے، اپنی مزدوری کا اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ونجا تقریباً ۲۰ سال کی ہیں، اور ۳۵ ایرولا کنبوں کی اس بستی میں زیاہ تر بالغوں کی طرح، دہاڑی مزدور کے طور پر کام کرتی ہیں۔
تمل ناڈو کے تھیروولّور ضلع کے تیروتّنی بلاک کی چیروکّنور پنچایت کے اس حصہ میں، مرد عام طور پر غیر- نریگا کام کرتے ہیں۔ وہ کھیتوں کے کنارے نالے کھودتے ہیں، آم کے باغوں میں پانی ڈالتے ہیں، تعمیراتی مقامات پر مزدوری کرتے ہیں، مچان، کاغذ کی لگدی، جلانے کی لکڑی اور دیگر مقاصد کے لیے استعمال کیے جانے والے سووَکّو کے درختوں کو کاٹتے ہیں۔ ایک دن کا کام کرنے سے انہیں عام طور پر ۳۰۰ روپے ملتے ہیں۔
لیکن یہ سبھی کام موسمی اور غیر متوقع ہیں۔ مانسون کے دوران، جس دن انہیں کوئی کام نہیں ملتا ہے، اس دن ایرولا – تمل ناڈو میں خاص طور سے کمزور قبائلی گروہ کی شکل میں فہرست بند – بغیر کسی آمدنی کے ہی کسی طرح گزارہ کرتے ہیں، اور کھانے کے لیے پاس کے جنگلات میں چھوٹے جانوروں کا شکار کرتے ہیں، یا پھل اور قند تلاش کرتے ہیں (دیکھیں بنگلا میڈو میں دفن خزانے کی کھدائی اور بنگلا میڈو میں چوہوں کے ساتھ ایک الگ راہ پر)۔
اور عورتوں کے لیے تو وہ بکھرے ہوئے کام بھی شاید ہی کبھی دستیاب ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی، وہ اپنے شوہر کے ساتھ پاس کے اینٹ بھٹوں پر کام کرتی ہیں، جو جنوری- فروری سے شروع ہوکر مئی- جون تک چلتا ہے۔ لیکن یہ کام رک رک کر ہوتا ہے، اور میاں بیوی کی جوڑی پورے سیزن میں ۶ ہزار روپے کماتی ہے۔














