جنگلی حیات کے ڈاکٹر شرون سنگھ راٹھوڑ ۲۳ مارچ ۲۰۲۳ کی صبح اس مقام پر پہنچ جاتے ہیں۔ شواہد کی جانچ پرکھ کے بعد وہ کہتے ہیں: ’’اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ موت ہائی ٹینشن تاروں سے ٹکرانے کی وجہ سے ہوئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ آج سے تین دن پہلے یعنی ۲۰ مارچ [۲۰۲۳] کا واقعہ ہے۔
سال ۲۰۲۰ سے اب تک یہ تغدار کی چوتھی لاش ہے جس کی جانچ وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا (ڈبلو آئی آئی) سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر راٹھوڑ نے کی ہے۔ ڈبلو آئی آئی، وزارت ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی (ایم او ای ایف سی سی) اور ریاستی جنگلاتی حیات کے محکموں کی تکنیکی شاخ ہے۔ ڈاکٹر راٹھوڑ مزید کہتے ہیں، ’’پرندوں کے مردہ جسم کے سبھی ڈھانچے ہائی ٹینشن تاروں کے نیچے پائے گئے ہیں۔ تاروں اور ان بدقسمت پرندوں کی موت کے درمیان براہ راست تعلق بالکل واضح ہے۔‘‘
مردہ پرندہ شدید خطرے سے دوچار شاندار ہندوستانی تغدار پرندہ (آرڈیوٹس نگریسیپس) ہے۔ اور یہ صرف پانچ مہینوں میں دوسرا حادثہ ہے جب کوئی پرندہ ہائی ٹینشن تاروں سے ٹکرانے کے بعد گر کر موت کا شکار بنا ہو۔ جیسلمیر ضلع کے سنکرا بلاک کے قریبی گاؤں دھولیا کے کسان، رادھے شیام کہتے ہیں، ’’سال ۲۰۱۷ [جب سے انہوں نے ان پر نظر رکھنا شروع کیا تھا] کے بعد سے یہ نویں موت ہے۔‘‘ ایک پرجوش فطرت پسند کے طور پر وہ ان بڑے پرندوں پر نظر رکھتے ہیں۔ وہ مزید کہتے ہیں، ’’گوڈاون کی زیادہ تر اموات ہائی ٹینشن تاروں کے نیچے ہوئی ہیں۔‘‘
جی آئی بی کا اندراج جنگلاتی حیات (تحفظ) قانون، ۱۹۷۲ کے جدول ۱ میں کیا گیا ہے۔ کبھی پاکستان اور ہندوستان کے گھاس کے میدانوں میں پائے جانے والے اس پرندے کی کل آبادی آج دنیا کے جنگلی علاقوں میں صرف ۱۲۰ سے ۱۵۰ کے قریب ہے، اور ان کی آبادی پانچ ریاستوں میں منقسم ہے۔ کرناٹک، مہاراشٹر اور تلنگانہ کے نقطہ اتصال پر تقریباً ۸ سے ۱۰ پرندے اور گجرات میں چار مادہ دیکھے گئے ہیں۔
ان کی سب سے زیادہ تعداد یہاں جیسلمیر ضلع میں ہے۔ ڈاکٹر سُمت ڈوکیا بتاتے ہیں، ’’یہاں دو آبادیاں ہیں۔ ایک پوکھرن کے قریب اور دوسری ڈیزرٹ نیشنل پارک میں۔ دونوں کے درمیان تقریباً ۱۰۰ کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔‘‘ ڈاکٹر ڈوکیا وائلڈ لائف کے ماہر حیاتیات ہیں، اور ان پرندوں پر ان کے مغربی مسکن – راجستھان کے گھاس کے میدانوں میں نظر رکھتے ہیں۔