’’وہ گھنٹوں روتی ہے، مجھے اپنی ماں کو واپس لانے کے لیے کہتی ہے،‘‘ ششو پال نشاد اپنی سات سال کی بیٹی، نویہ کے بارے میں کہتے ہیں۔ ’’لیکن میں اسے کہاں سے لاؤں؟ خود میرا دماغ بھی کام نہیں کر رہا ہے۔ ہم کئی ہفتوں سے سوئے نہیں ہیں،‘‘ اتر پردیش کے سنگتولی گاؤں کے ۳۸ سالہ مزدور، ششو پال کہتے ہیں۔
ششو پال کی بیوی منجو – نویہ کی ماں – جالون ضلع کے کتھونڈ بلاک کے سنگتولی پرائمری اسکول میں ’شکشا متر‘ تھیں۔ یوپی کے پنچایت انتخاب میں لازمی ڈیوٹی کے بعد کووڈ۔۱۹ سے مرنے والے ۱۶۲۱ اسکول ٹیچروں کی فہرست میں ان کا نام نمبر ۱۲۸۲ ہے۔ حالانکہ مرنے سے پہلے تک، اپنی پانچ رکنی فیملی میں منجو نشاد ایک نمبر سے کہیں زیادہ تھیں۔
وہ تین بچوں کی ماں اور فیملی میں اکلوتی کمانے والی تھیں، جو ہر مہینے صرف ۱۰ ہزار روپے گھر لاتی تھیں۔ ٹھیکہ پر کام کرنے والے شکشا متروں کو بس اتنا ہی ملتا ہے اور ان کی نوکری کی میعاد کو لیکر کوئی سیکورٹی نہیں ہے۔ منجو جیسی ٹیچروں کے لیے بھی نہیں، جنہوں نے اس حیثیت سے ۱۹ برسوں تک کام کیا تھا۔ شکشا متر پڑھانے کا کام تو کرتے ہی ہیں، لیکن انہیں ٹیچنگ اسسٹنٹ (یا ٹیچر کے معاون) کے طور پر زمرہ بند کیا گیا ہے۔
ششو پال خود بندیل کھنڈ ایکسپریس وے کی تعمیر میں ۳۰۰ روپے یومیہ پر مزدوری کرتے تھے جب تک کہ ’’ایکسپریس وے کا مرحلہ جہاں میں کام کر رہا تھا، دو مہینے پہلے پورا نہیں ہو گیا۔ اور آس پاس کوئی تعمیراتی کام نہیں ہو رہا تھا۔ ہم ان پچھلے مہینوں میں اپنی بیوی کی آمدنی سے کام چلا رہے تھے۔‘‘
یوپی میں ۱۵، ۱۹، ۲۶ اور ۲۹ اپریل کو ہوئے چار مراحل کے پنچایت انتخاب میں ہزاروں ٹیچروں کو ڈیوٹی پر لگایا گیا تھا۔ ٹیچر پہلے ایک دن کی ٹریننگ پر گئے تھے، پھر دو دن کی ووٹنگ ڈیوٹی کے لیے – ایک دن تیاری کے لیے اور دوسرا ووٹنگ کے حقیقی دن۔ اس کے بعد، ۲ مئی کو ووٹوں کی گنتی کے لیے ہزاروں ٹیچروں کو پھر سے بلایا گیا۔ ان کاموں کو پورا کرنا لازمی تھا اور انتخاب ملتوی کرنے کی ٹیچر یونین کی اپیلوں کو نظر انداز کر دیا گیا تھا۔
یوپی شکشک مہا سنگھ کے ذریعے تیار کی گئی ۱۶۲۱ کی فہرست میں سے ۱۹۳ شکشا متروں کی موت ہو چکی ہے۔ ان میں سے منجو سمیت ۷۲ خواتین تھیں۔ حالانکہ، ۱۸ مئی کو یوپی محکمہ ابتدائی تعلیم کے ذریعے جاری کردہ پریس نوٹ میں کہا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن کے رہنما خطوط کے مطابق، صرف وہی لوگ معاوضہ کے حقدار ہیں جن کی موت نوکری کرنے کے دوران ہوئی ہے۔ اور ٹیچروں کے معاملے میں، اس کا مطلب یہ ہوگا کہ صرف وہی لوگ جن کی موت اپنی ڈیوٹی کے مقام پر، یا گھر لوٹتے وقت راستے میں ہوئی ہے۔ جیسا کہ پریس نوٹ میں کہا گیا ہے: ’’اس مدت کے دوران کسی بھی وجہ سے کسی شخص کی موت ہونے پر معاوضہ کی رقم واجب الادا ہوتی ہے، جسے ریاستی الیکشن کمیشن کے ذریعہ منظوری دی جائے گا۔‘‘








