دھڑگاؤں علاقے کے اکرانی تعلقہ میں، تپتی دوپہر میں شیونتا تڑوی اپنے سر پر ساڑی کا پلّو ڈالے بکریوں کے ایک چھوٹے سے ریوڑ کے پیچھے بھاگتی ہیں۔ جب بکری کا کوئی بچہ جھاڑیوں میں گھُستا ہے یا پھر کسی کے کھیت میں گھُسنے کی کوشش کرتا ہے، تو وہ اپنی چھڑی زمین پر پٹخ کر اسے جھُنڈ میں واپس لاتی ہیں۔ ’’مجھے ان پر کڑی نظر رکھنی پڑتی ہے۔ چھوٹے والے زیادہ شیطان ہیں۔ وہ کہیں بھی بھاگ جاتے ہیں،‘‘ وہ مسکراتے ہوئے کہتی ہیں۔ ’’اب یہ میرے بچوں جیسے ہیں۔‘‘
وہ جنگل کی طرف روانہ ہو چکی ہیں، جو کہ نندُربار ضلع میں ہرن کھُری گاؤں کی ایک بستی، مہاراج پاڑہ میں واقع ان کے گھر سے تقریباً چار کلومیٹر دور ہے۔ یہاں وہ اپنی بکریوں، چہچہاتی چڑیوں اور ہوا سے جھومتے درختوں کے درمیان اکیلی اور مست ہیں۔ وہ ونزوٹی (بانجھ عورت)، دَل بھدری (منحسوس عورت) اور دُشٹ (شیطان) جیسے طعنوں سے بھی آزاد ہیں، جو شادی کے بعد ۱۲ برسوں تک انہیں روز سنائے جاتے رہے۔
’’جن آدمیوں کے بچہ نہیں ہوتا، ان کے لیے ایسے ہتک آمیز لفظ کیوں نہیں بنے ہیں؟‘‘ شیونتا پوچھتی ہیں۔
شیونتا (بدلا ہوا نام)، جو اب ۲۵ سال کی ہو چکی ہیں، شادی کے وقت ۱۴ سال کی تھیں۔ ان کے ۳۲ سالہ شوہر، روی ایک زرعی مزدور ہیں، جو کام ملنے پر یومیہ ۱۵۰ روپے کما لیتے ہیں۔ وہ شرابی بھی ہیں۔ یہ لوگ بھیلوں کی آدیواسی برادریوں سے ہیں، جو مہاراشٹر کے آدیواسیوں کے غلبہ والے اس ضلع میں رہتے ہیں۔ شیونتا بتاتی ہیں کہ روی (بدلا ہوا نام) نے انہیں گزشتہ شب بھی پیٹا تھا۔ ’’کوئی نئی بات نہیں ہے،‘‘ وہ کندھا اُچکاتے ہوئے کہتی ہیں۔ ’’میں اسے بچہ نہیں دے سکتی۔ ڈاکٹر نے کہا تھا کہ میری بچہ دانی میں نقص ہے اس لیے میں دوبارہ ماں نہیں بن سکتی۔‘‘
۲۰۱۰ میں دھڑگاؤں کے دیہی اسپتال میں شیونتا کے اسقاطِ حمل کے وقت یہ پایا گیا تھا کہ شیونتا کو پالی سسٹک اوویریَن سنڈروم (پی سی او ایس) ہے، جس کا مطلب شیونتا کے حساب سے خراب بچہ دانی ہوتی ہے۔ وہ اس وقت صرف ۱۵ سال کی تھیں اور ان کو تین مہینے کا حمل تھا۔







