سورج جیسے ہی مشرقی گھاٹ کی گنجان پہاڑیوں کے پیچھے چھپنے لگتا ہے، قریبی جنگل میں پہاڑی مینا کی تیز چیخ و پکار نیم فوجی دستوں کے جوتوں کی بھاری آواز کے نیچے دب جاتی ہے۔ وہ ایک بار پھر گاؤں میں گشت کر رہے ہیں۔ اسی لیے وہ شام سے بہت زیادہ ڈرتی ہے۔
وہ نہیں جانتی کہ اس کا نام دیمتی کیوں رکھا گیا۔ ’’وہ ہمارے گاؤں کی ایک بے خوف عورت تھی، جس نے اکیلے ہی انگریز سپاہیوں کو مار بھگایا تھا،‘‘ ماں پرجوش ہوکر کہانی سناتیں۔ لیکن وہ دیمتی جیسی نہیں تھی – بلکہ ڈرپوک تھی۔
اور اس نے پیٹ درد، بھوک، گھر میں کئی دنوں تک بغیر پانی کے، بغیر پیسے کے، مشکوک نگاہوں، دھمکاتی آنکھوں، لگاتار ہونے والی گرفتاریوں، ظلم، مرتے ہوئے لوگوں کے درمیان رہنا سیکھ لیا تھا۔ لیکن ان سب کے ساتھ، اس کے پاس جنگل، درخت اور پانی کاچشمہ تھا۔ وہ اپنی ماں کو سال کے پھولوں میں سونگھ سکتی تھی، جنگلوں میں اپنی دادی کے گانوں کی گونج سنتی تھی۔ جب تک یہ ساری چیزیں اس کے پاس تھیں، وہ جانتی تھی کہ وہ اپنی پریشانیاں جھیل لے گی۔
لیکن اب وہ اسے بے دخل کرنا چاہتے تھے، اس کی جھونپڑی سے، اس کے گاؤں سے، اس کی زمین سے – جب تک کہ وہ کوئی ایسا کاغذ نہ دکھا دے، جو یہ ثابت کرتا ہو کہ وہ یہ سب جانتی ہے۔ ان کے لیے یہ کافی نہیں تھا کہ اس کے والد نے اسے مختلف درختوں اور جھاڑیوں، چھالوں اور پتوں کے نام سکھائے تھے، جن میں علاج کی طاقت تھی۔ وہ جتنی بار اپنی ماں کے ساتھ، پھل، اخروٹ، اور جلانے والی لکڑی جمع کرنے جاتی، اس کی ماں اسے وہ درخت دکھاتیں، جس کے نیچے وہ پیدا ہوئی تھی۔ اس کی دادی نے اسے جنگلوں کے بارے میں گانا سکھایا تھا۔ وہ اپنے بھائی کے ساتھ ان جگہوں پر دوڑ چکی تھی، پرندوں کو دیکھتے، ان کی آوازوں کی نقل کرتے ہوئے۔
لیکن کیا ایسا علم، یہ کہانیاں، گیت اور بچپن کے کھیل، کسی بھی چیز کے ثبوت ہو سکتے ہیں؟ وہ وہاں پر بیٹھ کر اپنے نام کا معنی، اور اس عورت کے بارے میں سوچنے لگی، جس کے نام پر اس کا نام رکھا گیا تھا۔ دیمتی نے کیسے ثابت کیا ہوگا کہ اس کا تعلق جنگل سے ہے؟



