’’سر، ابھی کچھ گاہک آئے ہیں۔ کیا میں ان کو اٹینڈ کر سکتا ہوں؟ میرے پاس ایئر فون ہے، میں آپ کی باتیں سنتا رہوں گا۔‘‘ تھوڑی دیر کے لیے خود کو اَن میوٹ کرتے ہوئے مظفر نے ہچکچاتے ہوئے اپنے ٹیچر سے اجازت مانگی، تاکہ وہ سبزی خریدنے کے لیے اس کے ٹھیلے پر انتظار کر رہے گاہکوں کو سبزی دے سکے۔ مظفر نے ایک بار پھر سے ’’تازی... سبزی لے لو...‘‘ کی آواز لگائی اور اس کے بعد وہ اسمارٹ فون پر سائنس کی کلاس میں لوٹ آیا۔
یہ مظفر شیخ نام کے طالب علم کی پہلی کلاس تھی، جب وہ پہلی بار ۱۵ جون کو آن لائن کلاس میں شامل ہوا۔ آٹھویں کلاس میں پڑھنے والے مظفر نے بتایا، ’’میں ہر وقت بیک گراؤنڈ میں ٹریفک یا مول تول کرنے والے گاہوں کے شور کو سنتا رہتا تھا۔ میرے لیے یہ طے کرنا مشکل تھا کہ میں کلاس پر توجہ دوں یا سبزیاں فروخت کرنے پر۔‘‘ مظفر آن لائن کلاس میں ’شامل‘ تو ہوا، لیکن اس کے ساتھ ہی اسے صبح ۱۰ بجے کے آس پاس اپنے ٹھیلے سے بینگن، چقندر، ککڑی اور گوبھی کے ساتھ ساتھ دیگر سبزیاں بھی بیچنی پڑیں۔ اسے سبزی بیچنے کے لیے ملاڈ کے مالوَنی علاقے کے سب سے مصروف بازار میں اپنا ٹھیلہ گھمانا پڑا۔ یہ جگہ شمالی ممبئی میں واقع ہے۔
مظفر نے آن لائن کلاس میں شامل ہونے کے لیے، کچھ گھنٹوں کے لیے ایک دوست سے فون اُدھار لیا تھا۔ اس کے پاس خود کا اسمارٹ فون نہیں ہے۔ مظفر نے بتایا کہ ’’ٹھیک اسی وقت، نویں کلاس میں پڑھنے والے میرے بڑے بھائی، مبارک کو بھی کلاس جوائن کرنا تھا۔ اس کے لیے انہیں اپنے دوست کے گھر پر جانا پڑا۔ پاپا کام پر گئے ہوئے تھے۔ اس لیے، مجھے ٹھیلے پر سبزی بیچنی پڑی۔ ہم نے تین مہینے بعد، ۱۰ جون کو پھر سے سبزیاں بیچنی شروع کر دی تھیں۔‘‘
مظفر اور مبارک کے والد، اسلام نے جنوری میں ٹھیلہ کرایے پر لیا تھا۔ فیملی کے اخراجات بڑھ رہے تھے اور انہیں آمدنی کے دوسرے ذرائع کی ضرورت تھی۔ تقریباً ۴۰ سال کے اسلام ایک ٹرک ڈرائیور کے ہیلپر کے طور پر کام کرتے تھے، لیکن کم آمدنی کے سبب انہوں نے نوکری چھوڑ دی تھی۔ حالانکہ، انہوں نے جون میں اسی کام کو پھر سے کرنا شروع کر دیا تھا۔ لڑکوں کی ماں کا نام مومنہ ہے، جو ۳۵ سال کی ہیں۔ مومنہ، ہیئر کلپ بناتی ہیں اور گاؤن کی سلائی کرتی ہیں۔ سات رکنی اس فیملی میں ان لوگوں کے علاوہ تین اور لڑکیاں ہیں۔ ایک دو سال کی لڑکی ہے، جس کا نام حسنین ہے۔ اس کے علاوہ، ۱۳ سال کی لڑکی فرزانہ ہے، جو ساتویں کلاس میں پڑھتی ہے۔ دو بھائی اور دو بہنوں کے علاوہ تیسری بہن بھی ہے، جس کا نام افسانہ ہے۔ افسانہ چھٹی کلاس میں پڑھتی ہے۔
لیکن ٹھیلہ کرایے پر لینے کے بمشکل دو مہینے بعد، ۲۵ مارچ سے کووڈ۔۱۹ لاک ڈاؤن لگ گیا۔ اس کی وجہ سے انہیں اپنی نئی نئی سبزی کی دکان بند کرنی پڑی۔ مظفر نے بتایا، ’’پہلے پاپا ٹھیلہ گاڑی سنبھالتے تھے۔‘‘ اس وقت، وہ اور اس کا ۱۷ سال کا بھائی مبارک، صبح ۷ بجے سے دوپہر تک اسکول جاتے تھے۔ اسکول کے بعد دونوں بھائی سبزی فروخت کرنے میں اپنے والد کا ہاتھ بٹاتے تھے۔











