وہ بچپن سے ہی لمبی قطاروں میں انتظار کرنے کی عادی تھی – پانی کے نل پر، اسکول میں، مندروں میں، راشن کی دکانوں پر، بس اسٹاپ پر، سرکاری دفاتر کے باہر۔ اکثر اسے بنیادی قطار سے تھوڑی دور ایک علیحدہ قطار میں کھڑے ہونے پر مجبور کیا جاتا، کیوں کہ پہلی قطار کو ترجیح دی جاتی تھی۔ وہ اُن نا امیدیوں کی بھی عادی تھی جو اُسے اکثر اپنی باری آنے پر جھیلنی پڑتی تھی۔ لیکن آج شمشان کے باہر وہ اسے مزید برداشت نہیں کر سکتی۔ وہ اس کی لاش کو اپنے پڑوسی نظام بھائی کے آٹو میں چھوڑ کر اپنے گھر واپس بھاگ جانا چاہتی تھی۔
چند دن قبل جب بھیکھو اپنی بوڑھی ماں کی لاش کے ساتھ یہاں آیا تھا، تو وہ اتنی لمبی قطار کو دیکھ کر پریشان ہو گئی تھی۔ لیکن یہ صدمہ اسے صرف اپنی ماں کی موت سے نہیں لگا تھا؛ بلکہ اس نے اس کی روح کو بہت پہلے لرزتے ہوئے دیکھا تھا، اپنے لوگوں کو پیسے کے بغیر، کھانا کے بغیر، نوکریوں کے بغیر پریشان ہوتے دیکھ کر، جو کئی مہینوں سے اپنی بقیہ مزدوری مالک سے حاصل کرنے کے لیے بلا مقصد احتجاج کر رہے تھے، جو ایسا کوئی کام تلاش کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے تھے جس سے انہیں مناسب پیسے مل جائیں، جو انہیں بیماری کے منہ میں جانے سے پہلے قرض تلے روندے جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ یہ بے رحم بیماری شاید اس کے لوگوں کے لیے ایک نعمت ہو، ایسا وہ سوچا کرتی تھی۔ جب تک کہ...



