سید خورشید نے اس بار بجٹ پر بہت کم توجہ دی۔ خورشید (۷۲) کہتے ہیں، ’’میں نے نیوز چینل دیکھنے کی کوشش بھی نہیں کی۔ کون جانے کہ اس میں کتنا سچ ہے اور کتنا غلط!‘‘
حالانکہ، ان کو اس سال کے بجٹ میں ٹیکس کی سطح میں ہوئی تبدیلی کا علم ہے، کیوں کہ کسی نے ان سے اس کا ذکر کیا تھا۔ وہ ہنستے ہوئے کہتے ہیں، ’’لیکن میں اپنے محلہ میں ایک بھی ایسے انسان کو نہیں جانتا جسے اس سے کوئی فائدہ ہوگا۔ ہم اپنا کماتے ہیں اور اپنا کھاتے ہیں۔‘‘
خورشید پچھلے ۶۰ سالوں سے مہاراشٹر کے پربھنی ضلع کے گنگا کھیڑ قصبہ میں درزی کا کام کر رہے ہیں۔ جب انہوں نے اپنے والد سے یہ کام سیکھا تھا، تب ان کی عمر صرف آٹھ سال تھی۔ حالانکہ، اب ان کے پیشہ میں پہلے جتنا منافع نہیں رہا۔ وہ اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہتے ہیں، ’’نوجوان نسل ریڈی میڈ کپڑے پہننا پسند کرتی ہے۔‘‘




