دہلی میں سردیوں کی ایک بوجھل دوپہر تھی۔ جنوری کا سورج برآمدے میں کسی مہمان کی طرح براجمان تھا، جب قمر تبریز نے تقریباً ایک ہزار کلومیٹر دور اپنی ماں کو فون کیا۔ ۷۵ سالہ شمیمہ خاتون کے ساتھ اپنی بات چیت کے دوران وہ بہار کے سیتامڑھی ضلع کے بری پھلوریہ گاؤں میں اپنے بچپن کے گھر میں پہنچ گئے۔
آپ اگر فون کی دونوں جانب کی آوازیں سنتے، تو آپ کو یقیناً کچھ عجیب سا احساس ہوا ہوتا۔ خالص اردو میں بات کرتے ہوئے قمر پوچھتے ہیں، ’’امی ذرا یہ بتائیے گا کہ بچپن میں جو میرے سر پہ زخم نکلتے تھے ان کا علاج کیسے کرتی تھیں آپ؟‘‘
’’سیر میں جو ہو جاہئی – توروہو ہولا رہا – بتکھورا کہا ہئی اوکو ادھر۔ ریہہ، چکنی مٹی لگاکے دھولیا رہا، مگر لگا ہئی بہت۔ تا چھوٹ گیلئی‘‘ [جو سر میں نکلتا ہے – تمہیں بھی نکلتا تھا – اسے یہاں بتکھورا کہتے ہیں۔ میں تمہارے سر کو ریہہ اور چکنی مٹی سے دھویا کرتی تھی، لیکن اس سے بہت درد ہوتا ہے۔ آخرمیں وہ زخم ٹھیک ہو جاتے تھے]،‘‘ علاج کا اپنا گھریلو نسخہ بتاتے ہوئے وہ کھل کر ہنستی ہیں، لیکن ان کی زبان قمر کی زبان سے بالکل مختلف ہے۔
ان کی بات چیت میں کوئی غیرمعمولی چیز نہیں تھی۔ قمر اور ان کی والدہ ہمیشہ ایک دوسرے سے اسی طرح دو الگ زبانوں میں بات کرتے ہیں۔
’’میں ان کی بولی سمجھتا ہوں، لیکن اس میں بات نہیں کر سکتا۔ میں کہتا ہوں کہ اردو میری ’مادری زبان‘ ہے، لیکن میری ماں مختلف بولی بولتی ہیں،‘‘ وہ اگلے دن پاری بھاشا میٹنگ میں کہتے ہیں، جہاں ہم مادری زبانوں کے عالمی دن کے موقع پر اپنی اسٹوری کے موضوع پر تبادلہ خیال کر رہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا، ’’اس زبان کا نام کسی کو معلوم نہیں ہے، نہ تو امّی کو اور نہ ہی میرے خاندان میں کسی اور شخص کو، یہاں تک کہ اسے بولنے والے دیگر افراد کو بھی نہیں۔‘‘ وہ مرد (بشمول قمر، ان کے والد اور بھائی کے) جو گاؤں سے تعلیم یا کام کی تلاش میں ہجرت کر گئے تھے وہ کبھی یہ بولی نہیں بولتے۔ قمر کے بچوں کے لیے یہ بولی اور زیادہ اجنبی ہے۔ وہ اپنی دادی کی زبان نہیں سمجھتے ہیں۔



















