گوداموں کا بند ہونا اور تمباکو کے زیر کاشت زمین کا سکڑنا بھی عالمی ادارہ صحت کے فریم ورک کنونشن آف ٹوبیکو کنٹرول (ایف سی ٹی سی) سے منسلک ہے، جس کا مقصد تمباکو کی کھپت کو کم کرنا ہے۔ سال ۲۰۱۶ میں، ایف سی ٹی سی پر دستخط کرنے والوں نے (بشمول ہندوستان کے) مرحلہ وار طریقے سے تمباکو کی پیداوار کو کم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس لیے تمباکو بورڈ نے نئے گوداموں کو لائسنس دینا بند کر دیا ہے اور تمباکو کے کم ہوتے منافع کی وجہ سے کسانوں کی درخواستیں بھی کم ہو رہی ہیں۔
سری نواس راؤ ٹی (۴۰ سالہ) اگراہرم کے ایک کرایہ دار کسان ہیں، جو ۳۰ ہزار روپے فی ایکڑ سالانہ کی لیز پر لی گئی زمین پر تمباکو اگاتے ہیں۔ ان پر صرف پچھلے زرعی سیزن میں ۵ء۱ لاکھ روپے کا قرض ہو گیا ہے۔ ’’میں نے ۲۰۱۲ میں ۶ لاکھ روپے کی لاگت سے ایک گودام بنوایا تھا، جسے پچھلے سال ۳ لاکھ روپے میں فروخت کردیا،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’اب کوئی بھی گودام خریدنے کو تیار نہیں ہے۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمیں ۱۰ لاکھ فی گودام کا معاوضہ دیا جائے اور ہم منٹوں میں تمباکو کی کاشت چھوڑ دیں گے۔ سال ۲۰۱۰ میں تقریباً ۳۳ موتھے (مزدوروں کے گروہ) باہر سے گاؤں کے گوداموں میں کام کرنے آئے تھے۔ اس سال بمشکل ۱۰ موتھے آئے ہیں۔‘‘
انہی عوامل کی وجہ سے پرکاسم کے تمباکو کسان کم پانی سے اگنے والی منافع بخش فصلوں کے متبادل تلاش کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ جب میں نے موگا چنتلا گاؤں کا دورہ کیا تھا، تو سبّا راؤ دوسرے کسانوں کو اپنے اسمارٹ فون پر لاکھ کی فصل کے بارے میں یوٹیوب ویڈیو دکھا رہے تھے۔ ’’ہمیں اس فصل کو اپنے گاؤں میں آزمانا چاہیے،‘‘ انہوں نے کہا اور گاؤں والوں نے سر ہلا کر ان سے مزید بتانے کو کہا۔ ’’یہ ایک نقدی فصل ہے جو سریکاکولم ضلع اور اوڈیشہ کے کچھ حصوں میں اگائی جاتی ہے اور اسے زیادہ پانی کی ضرورت نہیں ہوتی،‘‘ وہ وضاحت کرتے ہیں۔
دریں اثنا، دہلی میں آٹورکشہ اور بس اسٹاپ پر یہ کہتے ہوئے کسانوں کے پوسٹر لگے ہیں کہ ’ہماری روزی روٹی کی حفاظت کریں‘۔ ان پر تمباکو فروخت کرنے والوں کی قومی تنظیم ’اکھل بھارتیہ پان وکریتا سنگٹھن‘ کا نام اور لوگو لگا ہوا ہے۔ جب میں کسانوں سے اس مہم کے بارے میں پوچھتا ہوں تو وہ جواب میں تمباکو کمپنیوں کو گالیاں دیتے ہیں۔ اس کے بعد سبا راؤ مزید کہتے ہیں، ’’اگر کسان متحد ہو کر آبپاشی کی سہولیات کے لیے یا سگریٹ کمپنیوں کے خلاف لڑتے تو ہماری حالت بہتر ہوسکتی تھی۔‘‘
اس مضمون کا مشترکہ طور پر تصنیف کردہ ایک اور ورژن سب سے پہلے ۲ فروری ۲۰۱۸ کو ’دا ہندو بزنس لائن‘ میں شائع ہوا تھا۔
مترجم: شفیق عالم