بچپن میں رجیتا جب کھڑکیوں سے جھانک کر نوعمر لڑکوں کو اپنے والد اور دادا سے تربیت حاصل کرتے دیکھتیں، تو سوچتیں کہ وہ اس میں کیوں شریک نہیں ہوسکتیں۔ کٹھ پتلیاں اس کم عمر لڑکی کی آنکھوں کو خصوصی طور پر بھلی لگتی تھیں، اور اس کے کان اس میں گائے جانے والے گیتوں (بندوں) کے مخصوص آہنگ کے دلدادہ تھے۔
’’میرے دادا نے پتلی بازی میں میرے شوق کو پہچان کر مجھے اس سے وابستہ بند سکھانے کی پیشکش کی،‘‘ ۳۳ سالہ رجیتا کہتی ہیں۔
رجیتا پلور، شورنور میں اپنے خاندانی اسٹوڈیو میں لکڑی کے بنچ پر بیٹھی تول پاوکوت کٹھ پتلی کے چہرے کے خدوخال تراش رہی ہیں۔ ان کے سامنے ایک میز پر لوہے کے مختلف آلات جیسے سُتالی، چھینی اور ہتھوڑے رکھے ہوئے ہیں۔
دوپہر کا وقت ہے اور اسٹوڈیو میں خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ جو واحد آواز سنائی دے رہی ہے وہ ایک پنکھے کی گھرگھرانے کی آواز ہے۔ یہ پنکھا کٹھ پتلی سازی کے لیے بنے شیڈ میں رجیتا کے بغل میں رکھا ہوا ہے۔ باہر کھلی چھت پر چمڑے کی چادروں کو دھوپ میں سوکھ کر سخت ہونے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔ سوکھنے کے بعد اس سے کٹھ پتلیاں تراشی جائیں گی۔
’’یہ کٹھ پتلیاں عصری موضوعات پر ہمارے شوز کے لیے بنی ہیں،‘‘ رجیتا ایک کٹھ پتلی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہیں، جس پر وہ فی الحال کام کر رہی ہیں۔ تول پاوکوت کٹھ پتلی کا کھیل ہندوستان کے مالابار ساحل کا ایک روایتی فن ہے جو اصلاً دیوی بھدرکالی کے سالانہ تہوار کے موقع پر مندر کے احاطے میں دکھایا جاتا ہے۔














