لوک گیتوں نے ہمیشہ سے ثقافتی علم کو زندہ رکھنے اور سماجی پیمانوں کو آگے لے جانے کا کام کیا ہے۔ حالانکہ، اکثر ان کی مدد سے ثقافتی تبدیلی کو جنم دینے اور بیداری پھیلانے کا کام بھی کیا جاتا رہا ہے۔ اس زبانی روایت کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ ہر ایک پیشکش کے ساتھ اپنی شکل بدل لیتی ہے۔ اس کے علاوہ، اس کا مقامی ثقافت کے ساتھ گہرا تعلق رہا ہے۔
یہاں پیش کردہ گیت فوک میوزک کی قابل تغیر فطرت کی ہی ایک مثال ہے۔ یہ گیت ہمیں دیہی خواتین کی زندگی کے جنسی حقائق کے بارے میں بتاتا ہے اور بیداری کا پیغام دیتا ہے۔ یہ گیت صرف سماجی تنقید نہ ہو کر ایک جذباتی فریاد بھی ہے، جسے کچّھ اور احمد آباد کی خواتین فنکاروں نے اپنی آواز دی ہے۔
اس گانے میں ایک خاص ساز کا استعمال کیا گیا ہے، جسے جوڑیا پاوا یا الگھوزا کہتے ہیں۔ یہ لکڑی کا ایک ساز ہے، جسے دونوں طرف سے پھونک مار کے بجایا جا سکتا ہے۔ روایتی طور پر پاکستان میں سندھ اور ہندوستان میں کچّھ، راجستھان اور پنجاب جیسے شمال مغربی علاقوں کے فنکار اس ساز کا استعمال کرتے رہے ہیں۔



