’’پہلے ہی دن مجیدن نے میرے ہاتھ پر زوردار چپت لگائی تھی،‘‘ ۶۵ سالہ قرسید بیگم اُس دن کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں۔ ان کے بغل میں بیٹھی مجیدن بیگم اس پرانی کہانی کو سن کر ہنسنے لگتی ہیں، اور وقت ضائع کیے بغیر اپنا دفاع کرنے لگتی ہیں۔ ’’قرسید کو شروع شروع میں بالکل معلوم نہیں تھا کہ دھاگوں کے ساتھ کیسے کام کیا جاتا ہے۔ میں نے اسے صرف ایک بار چپت لگائی تھی،‘‘ وہ کہتی ہیں اور ساتھ ہی یہ کہنا نہیں بھولتی ہیں، ’’اس کے بعد اس نے تیزی سے یہ کام سیکھا۔‘‘
پنجاب کے بھٹنڈا ضلع کے گھندا بانا کی یہ دونوں بزرگ خواتین – مجیدن اور قرسید اپنے ہاتھ سے بُنی گئی باریک اور خوبصورت دریوں کے لیے مشہور ہیں۔ انہیں وہ کپاس، جوٹ اور یہاں تک کہ پرانے کپڑے سے بھی بُنتی ہیں۔
’’میں نے مجیدن سے دریاں بُننے کا کام جب سیکھا، تو اُس وقت میری عمر ۳۵ سال تھی،‘‘ قرسید بتاتی ہیں۔ ’’تب سے ہم دونوں یہ کام ایک ساتھ کر رہے ہیں،‘‘ ۷۱ سالہ مجیدن کہتی ہیں۔ ’’یہ اکیلے ایک آدمی کا کام ہے بھی نہیں، بلکہ اس میں دو لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
یہ جوڑی، جو دو سگے بھائیوں سے شادی ہونے کے سبب ایک دوسرے کی رشتہ دار بھی ہیں، خود کو ایک دوسرے کی بہنیں اور فیملی کی رکن مانتی ہیں۔ ’’ہم خود کو سگی بہنیں مانتی ہیں،‘‘ قرسید کہتی ہیں۔ مجیدن بھی اپنی طرف سے جوڑنا نہیں بھولتیں، ’’حالانکہ ہماری عادت بالکل الگ ہے۔‘‘ بات کو واضح کرتے ہوئے قرسید فوراً بولتی ہیں، ’’یہ ایک دم دو ٹوک بولتی ہے…صاف اور منہ پر، میں تھوڑا خاموش رہتی ہوں۔‘‘
دریاں بُننے کے علاوہ مجیدن اور قرسید دوسرے کے گھروں میں بھی کام کرتی ہیںا ور اپنے گھر والوں کا پیٹ پالنے کے لیے مہینہ میں چند ہزار روپے کما لیتی ہیں۔ دونوں ہی کام کڑی محنت کا ہے، خاص کر یہ دیکھتے ہوئے کہ اب ان کی عمر بھی اچھی خاصی ہو گئی ہے۔


















