کھیت کے کنارے کھڑے ہو کر وہ اپنی فصل کو لگاتار دیکھے جا رہے تھے، جو موسلادھار بارش کی وجہ سے گھٹنوں کے برابر پانی میں ڈوبنے کے بعد چاندی جیسے سفید رنگ کی ہو چکی ہے۔ ودربھ کے علاقہ میں وجے ماروتّر کی کپاس کی فصل پوری طرح برباد ہو چکی ہے۔ وجے (۲۵ سالہ) کہتے ہیں، ’’میں نے اس فصل میں تقریباً ایک لاکھ ۲۵ ہزار روپے لگائے تھے۔ میری فصل پوری طرح برباد ہو چکی ہے۔‘‘ یہ ۲۰۲۲ کا ستمبر مہینہ تھا اور وجے کے لیے کھیتی کا پہلا سیزن تھا۔ اور بدقسمتی سے اس بار ایسا کوئی بھی نہیں تھا جس کے ساتھ وہ اپنا دُکھ بانٹ سکتے۔
ان کے والد گھن شیام ماروتّر نے پانچ مہینے پہلے ہی خودکشی کر لی تھی، اور ان کی ماں تقریباً دو سال پہلے اچانک دل کا دورہ پڑنے سے چل بسی تھیں۔ موسم کی غیر یقینی صورتحال اور قرض کے بڑھتے بوجھ کے سبب ان کے والدین گہرے تناؤ اور بے چینی کا سامنا کر رہے تھے۔ ودربھ علاقہ کے بہت سے دوسرے کسان بھی اسی قسم کے ذہنی تناؤ سے گزر رہے تھے، اور ان کو بھی کسی قسم کی مدد نہیں مل پا رہی تھی۔
حالانکہ، وجے اس بات کو اچھی طرح جانتے تھے کہ اپنے والد کی طرح ٹوٹ جانے سے ان کا کام نہیں چلنے والا ہے۔ لہٰذا، اگلے دو مہینے تک انہوں نے خود کو کھیت سے پانی نکالنے کے کام میں لگا دیا۔ روزانہ دو گھنٹے تک اپنے ہاتھ میں بالٹی اٹھائے وہ کیچڑ سے بھرے اپنے کھیت سے پانی نکالنے میں مصروف رہے۔ ان کی ٹریک پینٹ گھٹنے تک مڑی ہوتی اور ان کی ٹی شرٹ پسینے سے سرابور ہو جاتی۔ ہاتھوں سے پانی نکالنے کی وجہ سے ان کی کمر ٹوٹ جاتی تھی۔ وجے بتاتے ہیں، ’’میرا کھیت ڈھلان پر واقع ہے۔ اس لیے، بھاری بارش ہونے پر میں سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہوں۔ آس پاس کے کھیتوں کا پانی بھی میرے ہی کھیت میں داخل ہو جاتا ہے اور اس مسئلہ سے چھٹکارہ پانا بہت مشکل ہے۔‘‘ اس تجربہ نے انہیں کافی خوفزدہ کر دیا ہے۔
حد سے زیادہ بارش، لمبے عرصے تک خشک سالی، اور ژالہ باری جیسے سخت موسمیاتی حالات کی وجہ سے جب سنگین زرعی بحران کا سامنا کرنا پڑتا ہو، تب حکومت کے ذریعے ذہنی صحت سے متعلق مسائل کی اندیکھی کسانوں کی مشکلوں کو بڑھانے کا ہی کام کرتی ہے۔ (پڑھیں ودربھ: کسانوں کی ذہنی صحت پر زرعی بحران کا اثر)۔ ذہنی تناؤ اور عارضے میں مبتلا افراد تک ذہنی حفظان صحت کا قانون، ۲۰۱۷ کے تحت ملنے والی طبی خدمات کی کوئی معلومات یا اس سے متعلق التزامات کی کوئی جانکاری وجے یا ان کے والد گھن شیام کو کبھی نہ مل سکی۔ اور نہ کبھی انہیں ۱۹۹۶ میں شروع ہوئے ڈسٹرکٹ مینٹل ہیلتھ پروگرام کے تحت منعقدہ طبی کیمپوں میں ہی لے جایا گیا۔
نومبر ۲۰۱۴ میں، حکومت مہاراشٹر نے ’پریرنا پرکلپ فارمر کاؤنسلنگ ہیلتھ سروس پروگرام‘ کی شروعات کی تھی۔ یہ پہل ضلع کلیکٹریٹ کے دفتر اور یوتمال کی ایک غیر سرکاری تنظیم (این جی او)، اندرا بائی سیتا رام دیش مکھ بہو اُدیشیہ سنستھا کے توسط سے شروع کی گئی، اور اس کا مقصد دیہی علاقوں میں علاج کی کمیوں کو پبلک (سول سوسائٹی)-پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل پر پورا کرنا ہے۔ لیکن سال ۲۰۲۲ میں، جب وجے نے اپنے والد کو کھویا، مبینہ طور پر مشہور پریرنا پروجیکٹ کے غبارے کی ہوا بھی پوری طرح سے نکل چکی تھی۔








