سال ۲۰۱۷ میں، میں نے کہیں پر ایک رسید دیکھی تھی جو منڈی میں اپنی پیداوار بیچنے آئے مہاراشٹر کے ایک کسان کو دی گئی تھی۔ اس میں درج حساب کتاب اتنا عجیب تھا کہ کسان کو بجائے اس کی پیداوار کی قیمت دینے کے، فصل کے ساتھ ساتھ اس سے اضافی رقم وصول کی گئی تھی۔ میرے لیے یہ ایک ناقابل یقین کہانی تھی۔ بعد میں مجھے اس قسم کے کئی اور واقعات دیکھنے کو ملے۔
ہندوستان میں زرعی بحران اس سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ اس موضوع پر بڑے پیمانے پر بحث کی جائے۔ میرا ماننا ہے کہ میری یہ فلم ’منڈی‘ اس بات چیت کو شروع کرنے میں اہم رول ادا کر سکتی ہے۔
میں طویل عرصے سے پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا اور پی سائی ناتھ کے کام کا مطالعہ کر رہا ہوں۔ درحقیقت، ’منڈی‘ کے لیے ہماری زیادہ تر تحقیق کی بنیاد یہی ہے۔ میں پاری سے جڑے صحافیوں کا بہت بڑا مداح ہوں، جو دیہی ہندوستان کی ان اسٹوریز کا پتہ لگاتے ہیں، اس کی رپورٹنگ کرتے ہیں اور انہیں دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ اس فلم کا پاری پر آرکائیو کیا جانا میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔




