سال ۱۹۹۰ کی دہائی کے آس پاس تک اس علاقے میں ایسا ایک بھی آدمی نہیں تھا جس نے ۱۰ویں جماعت کے بعد پڑھائی کی ہو۔ نئی نسل نے رسمی تعلیم میں تھوڑی دلچسپی لینی شروع کی ہے۔ اگر پہلی کلاس میں وارلی کے ۲۵ طلباء نے داخلہ لیا ہے، تو ان میں سے صرف ۸ ہی ۱۰ویں جماعت تک پہنچتے ہیں۔ درمیان میں پڑھائی چھوڑ دینے والے طلباء کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ان آٹھ میں سے بھی صرف ۶-۵ طلباء ہی امتحان پاس کر پاتے ہیں۔ ۱۲ویں جماعت تک پہنچتے پہنچتے پڑھائی چھوڑنے والے طلباء کی تعداد اور زیادہ ہو جاتی ہے، اور آخر میں بس ۴-۳ طلباء ہی اسکولی تعلیم مکمل کر پاتے ہیں۔
گریجویشن تک کی پڑھائی جاری رکھنے کی سہولت صرف تعلقہ ہیڈ کوارٹر میں دستیاب ہے، جہاں تک پہنچنے کے لیے ۱۰ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔ لیکن اس کے علاوہ، وہاں دوسری سہولیات نہیں کے برابر ہیں اور طلباء کو آگے کی پڑھائی کے لیے آخرکار تھانے، ناسک یا پالگھر جیسی جگہوں پر جانا پڑتا ہے۔ نتیجتاً، تعلقہ میں صرف تین فیصد لوگوں کے پاس ہی گریجویشن کی ڈگری ہے۔
خاص کر وارلی برادری میں شرح تعلیم بہت کم ہے، اور اسے بڑھانے کی کوشش مسلسل کی جا رہی ہے۔ ہم گاؤوں میں جا کر اور لوگوں سے بات چیت کر کے ان سے رابطہ کرنے اور ان میں اعتماد پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انٹرویو: میدھا کالے
یہ اسٹوری پاری کے معدوم ہوتی زبانوں کے پروجیکٹ کا حصہ ہے، جس کا مقصد ملک کی زوال آمادہ زبانوں کو دستاویزی شکل دینا ہے۔
وارلی ایک ہند آریائی زبان ہے جو ہندوستان میں گجرات، دمن اور دیو، دادرا اور نگر حویلی، مہاراشٹر، کرناٹک اور گوا کے وارلی یا ورلی آدیواسی بولتے ہیں۔ یونیسکو کے زبانوں کے ایٹلس نے وارلی کو ہندوستان میں ممکنہ طور پر معدوم ہوتی زبانوں میں سے ایک کے طور پر درج کیا ہے۔
ہمارا مقصد مہاراشٹر میں بولی جانے والی وارلی زبان کو دستاویزی شکل فراہم کرنا ہے۔
مترجم: محمد قمر تبریز