شری رنگم کے قریب کولّیڈم ندی کے ریتیلے کنارے پر پھیل رہے اندھیرے کے درمیان اپنے تل کے کھیتوں سے ۱۰ منٹ کے فاصلے پرموجود کسان وڈی ویلن مجھے اپنی زندگی کی کہانیاں سنا رہے ہیں۔ سال ۱۹۷۸ میں ان کی پیدائش کے ۱۲ دن بعد اسی دریا میں آئے سیلاب کی کہانی۔ ان کے گاؤں کی کہانی، جہاں ہر شخص شہد کے رنگ کا ایلو (تل کے بیج) اگاتا ہے، اور جس سے خوشبودار تیل نکالا جاتا ہے۔ ’کیلے کے دو تنوں کو پکڑ کر‘ تیراکی سیکھنے کی کہانی۔ پریہ سے محبت کی کہانی، جو ایک بڑی ندی، کاویری، کے کنارے رہتی تھیں، اور جن سے اپنے والد کے اعتراض کے باوجود شادی کر لی تھی۔ اور اپنی ڈیڑھ ایکڑ زمین پر دھان، گنے، کالے چنے اور تل کی کھیتی کی کہانی…
پہلی تین فصلوں سے کچھ رقم حاصل ہوتی ہے۔ ’’ہم دھان کی فصل سے حاصل ہونے والی آمدنی کو گنے کی کاشت کے لیے استعمال کرتے ہیں، اور اس رقم کو کھیت میں ڈال دیتے ہیں،‘‘ وڈی ویلن وضاحت کرتے ہیں۔ تل (جسے تمل میں ایلو کہتے ہیں) کی کھیتی تیل کے لیے کی جاتی ہے۔ اس کے بیجوں کی پسائی لکڑی کے کولہو میں کی جاتی ہے، اور نلّینئی (تل کے تیل) کو ایک بڑے برتن میں محفوظ کیا جاتا ہے۔ ’’ہم اسے کھانا پکانے، اچار بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں،‘‘ پریہ کہتی ہیں، ’’میرے شوہر روزانہ اس سے غرارے کرتے ہیں۔‘‘ وڈی ویلن مسکراتے ہوئے کہتے ہیں، ’’اور تیل کا غسل مجھے بہت پسند ہے!‘‘
ایسی بہت سی چیزیں ہیں جو وڈی ویلن کو پسند ہیں، اور ان سب سے انہیں خوشی ملتی ہے۔ نوعمری میں اس دریا میں مچھلی پکڑنا، اپنے دوستوں کے ساتھ تازہ مچھلیوں کو بھوننا اور کھانا۔ گاؤں میں پنچایت کے مکھیا کے گھر میں موجود واحد ٹیلی ویژن دیکھنا۔ ’’کیوںکہ، مجھے ٹی وی دیکھنا بہت پسند تھا، مجھے اس کی وہ آواز بھی پسند تھی جب اس میں خرابی ہو جاتی تھی اور ’اووین‘ کی آواز آتی تھی!‘‘
لیکن وہ پرانی گلابی یادیں دن کے اجالے کی طرح دھندلا جاتی ہیں۔ ’’اب آپ صرف زمین پر انحصار نہیں کر سکتے،‘‘ وڈی ویلن اشارہ کرتے ہیں۔ ’’ہمارا کام چل جاتا ہے کیونکہ میں ایک ٹیکسی بھی چلاتا ہوں۔‘‘ وہ اپنی ٹویوٹا ایٹیوس میں بیٹھا کر ہمیں تروولرسولئی کے شری رنگم تعلقہ میں واقع اپنے گھر سے دریا کے کنارے لے آئے تھے۔ انہوں نے آٹھ فیصد کی سود پر نجی قرض لے کر یہ کار خریدی تھی۔ قرض کی واپسی کے لیے انہیں ہر مہینے ۲۵ ہزار روپے کی بھاری رقم ادا کرنی پڑتی ہے۔ دونوں میاں بیوی کا کہنا ہے کہ پیسہ کا انتظام ہمیشہ ایک جدوجہد ہوتا ہے۔ اکثر مشکل اوقات میں سونے کے کسی زیور کو رہن رکھا جاتا ہے۔ ’’اگر ہم جیسے لوگ گھر بنانے کے لیے بینک میں قرض کی درخواست دیں گے، تو ہمیں چپلوں کے ایسے ۱۰ جوڑے گھسنے پڑیں گے۔ وہ ہمیں دوڑا دوڑا کر مار ڈالیں گے!‘‘ وڈی ویلن کہتے ہیں۔
آسمان اب کسی آئل پینٹنگ کی طرح گلابی اور نیلا اور سیاہ ہو گیا ہے۔ کہیں سے مور کے پکارنے کی آواز آتی ہے۔ ’’دریا میں اُدبلاﺅ بھی ہیں،‘‘ وڈی ویلن بتاتے ہیں۔ ہمارے نزدیک ہی نوعمر لڑکے اُدبلاﺅں کی سی مہارت کے ساتھ غوطہ لگاتے ہیں۔ ’’میں نے بھی ایسا کیا ہے، جب ہم بڑے ہو رہے تھے تو یہاں تفریح کے لیے اور کچھ تھا ہی نہیں!‘‘






































