عام طور پر اگر ہندوستان میں دیہی خواتین کی زندگی کے بارے میں بات کی جاتی ہے، تو روایتی کپڑے پہنے، کمر کے سہارے ایک گھڑا اٹھائے اور ایک یا دو گھڑوں کو اپنے سر پر سنبھالتی ہوئی ایک جوان یا بوڑھی عورت کی تصویر ذہن میں ابھرتی ہے، جو کہ دیہی ہندوستانی خواتین کی فرسودہ تصویر پیش کرتی ہے۔ ہندوستانی گاؤوں میں کنویں (جو کبھی خوبصورت اور کبھی بدرنگ نظر آتے ہیں) صرف پانی بھرنے کے مقام نہیں رہے ہیں۔ کنویں سے پانی بھرنے کے دوران، گہری دوستیوں کے جنم سے لے کر گاؤں میں رونما ہونے والے کسی سنسنی خیز واقعہ پر چٹخارے لینے اور ذات پر مبنی نا انصافیوں (جن سے کون پانی بھرے گا، یہ بھی طے کیا جاتا ہے) کا درد کنویں کی دنیا پر درج ملتا ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ یہی کنواں، جو روزمرہ کی زندگی کو چلاتا ہے، وہی سسرال میں تکلیفوں کا سامنا کر رہی بہت سی عورتوں کو کچھ لمحہ کے لیے پناہ بھی دیتا ہے۔ نیچے دیے گئے گیت میں، عورتوں (جن کی مرضی کے خلاف ایسے گھر میں شادی ہوئی ہے جہاں وہ خوش نہیں ہیں) کا اکیلا ساتھی – کنواں – بھی ان کے خلاف ہو گیا ہے۔ ان کے پاس ایسا کوئی بھی نہیں ہے جن سے وہ اپنے خاندان کے مردوں کی شکایت کر سکیں، جنہوں نے ان کی شادی ایسے گھر میں کردی ہے جو ان کے دشمن کا گھر معلوم ہوتا ہے۔
انجار کے شنکر باروٹ کے ذریعے پیش کردہ اس اداس گیت نے، جس میں ایک عورت اپنے خاندان کے مردوں کے ذریعے نبھائی گئی دشمنی کی شکایت کرتی ہے، نے شادیوں میں الگ الگ موقعوں پر گائے جانے والے گیتوں میں اپنی خاص جگہ بنا لی ہے۔



