’کھیلا ہوبے‘ (کھیل ہوگا) اور ’اب کی بار ۴۰۰ پار‘ (اس بار ۴۰۰ سے زیادہ سیٹیں حاصل کریں گے) کے درمیان معلق ہماری آبائی ریاست ایک چھوٹا ہندوستان ہے، جو سرکاری اسکیموں، سنڈیکیٹ مافیاؤں، حکومتی امداد اور متضاد مظاہروں کا ایک دلچسپ مرکب ہے۔
یہاں ہمارے سامنے بے گھر تارکین وطن ہیں جو ملازمتوں میں گھرے ہوئے ہیں، بے روزگار نوجوان ہیں جو ایک مایوس کن ریاست میں پھنسے ہوئے ہیں، مرکز اور ریاست کی لڑائی میں عوام پس رہے ہیں، موسمیاتی تبدیلی نے کسانوں کی کمر توڑ دی ہے، اور بنیاد پرست بیان بازیوں سے اقلیتیں نبرد آزما ہیں۔ ہمت جواب دے رہی ہے، جسم کمزور پڑ رہے ہیں۔ ذات، طبقہ، جنس، زبان، نسل، مذہب، جن چوراہوں پر ٹکراتے ہیں وہاں ہنگامہ کھڑا ہو جاتا ہے۔
جب ہم اس پاگل پن کے درمیان سے گزرتے ہیں تو ہمیں ایسی آوازیں سنائی دیتی ہیں، جو غیر واضح، بے بس، ہذیانی کیفیت والی ہیں۔ ساتھ ہی وہ آوازیں بھی ہیں جنہیں اب اہل اقتدار کے ذریعہ بیوقوف نہیں بنایا جاسکتا۔ سندیش کھلی سے لے کر ہمالیہ کے چائے کے باغات تک، کولکاتا سے لے کر رار کے فراموش شدہ علاقوں تک، ہم بطور رپورٹر اور مغنی سفر کرتے ہیں۔ ہم سنتے ہیں، ہم جمع کرتے ہیں، ہم تصویریں اتارتے ہیں، ہم بات کرتے ہیں۔

















